انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 148
۱۴۸ سورة الزمر تغییر حضرت خلیفتہ امسح الثالث بڑے چھوٹے چھوٹے فقروں میں تفسیر بھی بتا جاتے ہیں۔انہوں نے اس جگہ یہ بھی لکھاؤ لِهَذَا ( کہ جو میں نے معنی کئے ہیں صاحب مفردات راغب نے کہ اللُّبُّ الْعَقْلُ الْخَالِصُ اور مَا زَكَى مِنَ الْعَقْلِ ) اسی لئے اللہ تعالیٰ نے عَلَّقَ اللهُ تَعَالَى الْأَحْكامَ الَّتِي لَا يُدْرِكُهَا إِلَّا الْعُقُولُ الزَّكِيَّةُ بِأُولِی الْأَلْبَابِ ان احکام کا اور ہدایات کا تعلق قائم کیا ہے ان عقول کے ساتھ جو پاک ہیں اور اولوا الالباب کے پاس ہیں وہ۔چند مثالیں :- سورۃ الانعام کی آیت نمبر ۳۸ میں ہے۔اللہ تعالیٰ کو آیات کے نازل کرنے پر قادر نہ سمجھنا یعنی یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ اب آیات کے نزول پر قادر نہیں رہا (یہ آیت کا ترجمہ ہے۔میں عربی نہیں لے رہا ) ان لوگوں کا کام ہے جو لا یعلمون جو عقل تو رکھتے ہیں لیکن پاکیزہ عقل نہیں رکھتے۔جاہل ہیں اس لحاظ سے۔199191 اللہ تعالیٰ کا وعدہ یقیناً پورا ہونے والا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کی ذات اپنی پوری قدرتوں کے ساتھ اور پورے غلبہ کے ساتھ ایسی نہیں کہ وعدہ کرے اور پورا نہ کر سکے اور وہ جو طہارت کا سرچشمہ ہے اس کے وعدے ایسے نہیں کہ وہ وعدہ کرے اور پورا کرنے کا ارادہ چھوڑ دے یعنی دغا کر جائے وعدہ خلافی کر جائے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ یقیناً پورا ہونے والا ہے۔ایسا سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے دیئے ہیں وہ پورے ہوں گے، یعلمون ان لوگوں کا کام ہے اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا ) کہ جو لوگ علم رکھتے ہیں پاکیزہ عقل ، لب کے نتیجہ میں اس گروہ میں شامل ہیں۔ایسانہ سمجھنا جہالت ہے۔یہ آیت تو ہے چھوٹی سی لیکن قرآن کریم نے تبشیر و انذار سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں وعدے دیئے ہمیں اور ایسے بھی وعدے تھے جن کا تعلق خاص گروہوں کے ساتھ ہے۔ایسے بھی وعدے ہیں جن کا تعلق ہر اس شخص کے ساتھ ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے۔تو وعدہ ہے وہ تمہیں دے دیا جائے گا۔تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ یقیناً پورا کرنے والا ہے لیکن انسان دو گروہوں میں بٹ گئے۔ایک وہ جو سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی وعدہ پورا نہیں کرتا یا نہیں کر سکتا اور ایک وہ گروہ ہے جو یہ سمجھتا