انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 150
تفسیر حضرت خلیلی امسح الثالث ۱۵۰ سورة الزمر امان ہے اور اخروی زندگی کا گھر ہی درحقیقت اصلی زندگی کا گھر کہلا سکتا ہے۔اب ہرایک جو یہاں بیٹھا ہے یا جس تک میری آواز پہنچے اگر وہ دوسیکنڈ کے لئے سوچے کہ جو زمانہ گزار گیا ستر سال کا یا پچاس سال کا اپنی عمر کے لحاظ سے بیس سال کا یا دس سال کا، گزرنے کے بعد اس کے سوا کوئی احساس باقی نہیں رہتا کہ شاید چند سکنڈ ہی ہیں جو گزرے لیکن اخروی زندگی پر یقین جو ہے ہمیں ، وہ ہمیں یہ تسلی دیتا ہے کہ وہ ابدی زندگی ہے، نہ ختم ہونے والی۔بنیادی طور پر اخروی زندگی کی دو عجیب خصوصیات اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے رکھیں۔ایک یہ کہ وہ نہ ختم ہونے والی ہے۔دوسرے یہ کہ ہمیشہ حرکت کرنے والی ہے۔حرکت رفعت کی طرف، خدا تعالیٰ کے زیادہ پیار کی طرف اللہ تعالیٰ کے عرفان کو زیادہ حاصل کرنے کی طرف، لذت وسرور کا احساس پہلے سے ہر آن زیادہ ہو جانے کی طرف حرکت۔لیکن یہ ورلی زندگی غفلت اور کھیل کا سامان ہے۔اس میں خوشیاں بھی زندگی کے اندر، اسی زندگی کے دائرے میں ہمیشہ رہنے والی نہیں ہوتیں۔خوشی ہوتی ہے، چند گھنٹوں کے لئے ہوتی ہے۔کئی یہاں بھی شاید نو جوان بیٹھے ہوں جن کو مثلاً با کی کی کھیل سے بہت پیار ہے اور وہ دیکھتے ہیں۔میں نے پیچھے بتایا تھا باسکٹ بال والوں کو کہ ہم تو ہر خوبصورتی میں خدا تعالیٰ کے حسن کا جلوہ دیکھتے ہیں۔اس واسطے جہاں بھی ہمیں خوبصورتی نظر آئے ہم الحمد للہ پڑھنے والے ہیں۔تو کھیل میں بھی بڑی خوبصورت مود (Move) کہتے ہیں ان کو، وہ ہوتی ہیں اور بڑی بھیانک، بد شکل کہہ دیں ہم ، بڑی موو بھی ہوتی ہیں لیکن جو ہا کی کا میسج دیکھتا ہے وہ ایک گھنٹہ کچھ منٹ کے بعد ختم ہو گیا۔لیکن جو جنت کی خوشی ہے وہ ایک گھنٹہ یا ایک دن یا ایک مہینہ یا ایک سال یا ایک صدی یا ایک Million کا زمانہ (لفظ مجھے پوری طرح نہیں رہا ذہن میں ) یعنی لاکھوں سال یا اربوں سال یا کھربوں سال کا زمانہ تو نہیں ہے۔وہ تو نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔پھر اس میں حکمت یہ ہے، یہ جو تبدیلی ہے یعنی لذت کا بڑھتے چلے جانا اس واسطے کہ اگر لذت اور سرور خواہ وہ روحانی ہو خواہ اس کا تعلق اخروی زندگی کے ساتھ ہو اگر اس میں ٹھہراؤ آ جائے تو بور ہو جائے گا آدمی۔ایک ہی چیز اگر آپ کو بہت اچھی لگتی ہے اور صبح شام آپ کی بیوی وہی پکا کے آپ کو کھلانا شروع کر دے تو دو، چار، پانچ دس دن کے بعد آپ کہیں گے کہ یہ کیا شروع کیا ہوا ہے میرے ساتھ تم نے سلوک؟ تو بوریت کوئی نہیں ہے کہ آدمی کہے کہ اب میں یہ کھاتے کھاتے تھک گیا