انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 419 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 419

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۱۹ سورة النحل پھر آپ ملفوظات میں فرماتے ہیں۔متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری ، تلف حقوق ، ریا ، عجب، حقارت، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے اُن کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔“ یعنی متقی کے لئے یہی کافی نہیں کہ وہ صرف بڑے اخلاق سے بچے۔متقی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں جو اچھے اور نیک اخلاق بیان فرمائے ہیں اور جن کی تفصیل ہمیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات عالیہ میں ملتی ہے ان اخلاق میں ترقی کرتا چلا جائے۔چنانچہ اسی تسلسل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔لوگوں سے مروت خوش خلقی ہمدردی سے پیش آوے خدا تعالیٰ کے ساتھ سچی وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں وہی اصل متقی ہوتے ہیں یعنی اگر 66 ایک ایک خلق فرداً فرداً کسی میں ہوں تو اُسے متقی نہ کہیں گے۔“ مثلاً ایک شخص عام طور پر سچ بولتا ہے۔لیکن دیانت سے کام نہیں لیتا تو وہ متفق نہیں بلکہ تمام انسانی قوی اس کی تمام طاقتوں اور استعدادوں کو موقع اور محل کے مطابق استعمال کرنا یہ تقویٰ ہے اگر کسی شخص میں کوئی ایک خاص خلق فرد فرد پایا جاتا ہے تو اُسے متقی نہ کہیں گے۔فرمایا وو ” جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں اور ایسے ہی شخصوں کے لئے لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ( البقرۃ : ۶۳) ہے اور اس کے بعد اُن کو کیا چاہیے اللہ تعالیٰ ایسوں کا متولی ہو جاتا ہے۔جیسے کہ وہ فرماتا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصلِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷) حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتے ہیں۔اُن کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں۔اُن کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سنتے ہیں۔اُن کے پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتے ہیں اور ایک اور حدیث میں ہے کہ جو میرے ولی کی دشمنی کرتا ہے۔میں اس سے کہتا ہوں کہ میرے مقابلہ کے لئے تیار رہو۔ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے