انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 420
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۲۰ سورة النحل تو خدا تعالیٰ اُس پر ایسے جھپٹ کر آتا ہے جیسے ایک شیرنی سے کوئی اس کا بچہ چھینے تو وہ غضب سے جھپٹتی ہے“۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۶۸۰ - ۶۸۱ جدید ایڈیشن) پس اس آیہ کریمہ میں جو معَ الذین کہا گیا ہے یہ دو صفات کا مطالبہ کرتا ہے ایک اُس تقویٰ کا جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور جس کے متعلق میں نے اس وقت دوحوالے پڑھ دیئے ہیں۔تفسیر آپ خود سمجھ جائیں گے اور دوسرے یہ کہ وہ احسان کرنے والے ہوں۔احسان کے دو موٹے معنی ہیں وہ میں اس وقت بیان کر دیتا ہوں۔احسان کے ایک معنے یہ ہیں کہ انسان اپنی قوتوں اور استعدادوں کو موقع محل کے لحاظ سے استعمال کر کے جو اچھے خُلق بجالاتا یا بجالا سکتا ہے اُن کو پورے حسن کے ساتھ بجالائے۔اُن کو اچھی طرح ادا کرنے کے لئے بھر پور کوشش کرے۔ایسی کوشش کہ اس میں کوئی خامی اور کوئی کمی نہ رہے مثلاً خدمت خلق ہے۔انسان کو اس کی طاقت دی گئی ہے۔اس لحاظ سے احسان کے معنی یہ ہوں گے کہ خدمت خلق کے سارے پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر اور اپنی بساط کے مطابق اس خدمت کو کمال تک پہنچانا۔اسی لئے ہماری جماعت جو ایک غریب اور چھوٹی سی جماعت ہے جب کبھی خدمت خلق کا موقع پیدا ہوتا ہے تو یہ کوشش یہ کرتی ہے کہ جہاں تک اس سے ہو سکے قطع نظر اس کے کسی کا عقیدہ کیا ہے یا کسی کا سیاسی مسلک کیا ہے، خدمت کے لئے باہر نکلتی ہے اور لوگوں کی بے لوث خدمت بجالاتی ہے اور خدمت کے ہر موقع کو اس کے کمال تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔گو یا احسان کے ایک معنی ہر اچھے فعل کے کرنے اور ہرا چھے خُلق کے اظہار کو انتہا تک پہنچانے کے ہوتے ہیں۔احسان کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے رنگ میں رنگین ہو کر بنی نوع انسان پر احسان کرنا۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ایک صفت اس کا صمد ہونا ہے یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں اور ہر شخص اس کا محتاج ہے۔انسان کلی طور پر یہ صفت اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی اسے طاقت نہیں دی گئی۔کسی انسان کو یہ استعداد نہیں دی گئی کہ وہ کلی طور پر یہ کہے کہ کسی کی اُسے ضرورت نہیں اور ہر ایک کو اس کی ضرورت ہے۔یہ تو ایک عجیب خیال ہوگا بلکہ یہ تو پھر خدائی کا دعویٰ بن جائے گا کیونکہ اب بھی دیکھ لو یہاں جتنے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں اُنہوں نے جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں، ان کپڑوں کے بنانے والے آدمی کی انہیں احتیاج تھی اسی طرح اور ہزاروں مثالیں ہیں جو انسانی زندگی میں