انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 418
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۱۸ سورة النحل ہے کہ جو لوگ حقیقی معنے میں اللہ تعالیٰ کے عاشق ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ دونوں جہان اُن کو دے دیتا ہے مگر جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حقیقی عاشق ہیں وہ ان دو جہانوں کو لے کر کیا کریں گے۔۔۔۔معیت کا یہی وہ مفہوم ہے جس کا قرآن کریم نے متعدد جگہ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقُوا کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔کبھی اس کی کوئی صفت بیان کی ہے اور کبھی کوئی اور صفت بیان کی ہے۔اس وقت میں صرف دو باتوں کولوں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ کہ اللہ تعالیٰ کی معیت ایک تو متقیوں کو حاصل ہوتی ہے دوسرے محسنین کو۔چنانچہ تقویٰ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ بیان کیا ہے اس کے میں ایک دو حوالے اس وقت پڑھوں گا تا کہ احباب پر اس کا مفہوم واضح ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں فرماتے ہیں۔حقیقی تقویٰ کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہو سکتی۔حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلُ لكُم فُرْقَانَا وَ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمُ (الانفال : ٣٠) وَ يَجْعَلُ تَكُم نُورًا تَنْشُونَ بِه (الحدید : ۲۹) یعنی اے ایمان والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے انتقا کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا۔وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نو ر تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قویٰ اور حواس میں آجائے گا۔تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہو گا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہو گا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہو گا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے قومی کی راہیں اور تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۸،۱۷۷)