انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 400 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 400

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۰۰ سورة النحل کر دیا اور جو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، اللہ تعالیٰ کی نعمتیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا تقاضا ہے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں ان مادی اور دنیوی عطایا کے نتیجہ میں تم روحانی نعمتوں سے محروم ہونے کی کوشش کرو گے۔وَ بِنِعْمَتِ اللهِ هُمْ يَكْفُرُونَ اصل نعمت خدا تعالیٰ کی۔ایک شخص ہے اس کو اتنا مال ملا کہ اس پر دس ہزار روپیہ زکوۃ واجب ہو گئی خدا کے لئے۔وہ دس ہزار روپیہ خدا کے حکم سے دے دیتا ہے تو جو دولت اس کو ملی جس پر زکوۃ واجب ہوئی مادی دولت ہے۔روپیہ ہے۔سونا ہے۔چاندی ہے۔بھیڑ بکری ہے۔اونٹ ہیں۔گائے اور بھینس ہے وغیرہ وغیرہ تو وہ زکوۃ دے گا تو یہی چیز جو مادی ہے اس نے خدا تعالیٰ کا حکم ماننے کے نتیجہ میں ایک روحانی نعمت کا دروازہ کھولا نا! خدا تعالیٰ نے کہا میرے بندے نے میرے حکم کے مطابق میری راہ میں اپنے مال کو میرے بتائے ہوئے نصاب کے مطابق خرچ کر دیا۔مگر خدا تعالیٰ نے محض یہ نصاب نہیں مقرر کیا بلکہ نوع انسانی کا جہاں تک تعلق ہے اس نصاب کا میں آگے آکے ابھی ذکر کروں گا۔رَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبت یہاں جو الطيبت کا لفظ استعمال کیا گیا اس سے میری توجہ اس طرف پھری کہ خدا تعالیٰ کی ہر نعمت جو ہے، وہ پاک ہے۔اس معنی میں کہ وہ پاکیزگی کی طرف لے جانے والی ہے۔پاکیزگی کی طرف لے جانے والی ہے صحیح استعمال کے نتیجہ میں ، اعمال صالحہ کے نتیجہ میں۔تو یہاں رزقکم میں ہر قسم کی عطا اور بخشش آ گئی اور من الطیبت میں اس طرف اشارہ کیا کہ خدا تعالیٰ کی ہر قسم کی عطا اور بخشش کے نتیجہ میں تم خدا تعالیٰ سے اس کے پیار کو حاصل کر سکتے ہوا گر اس کا صحیح استعمال کرو۔لیکن پھر آگے کافروں کو مخاطب کر کے خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے ا فَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ جو ہلاک ہونے والی چیز ہے اس پر تو وہ ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لئے دی کہ ہم ہی اس سے فائدہ اٹھائیں اور کوئی اور اس کا شریک نہ ہو۔ہم ہی اس کا استعمال کریں صحیح یا غلط جس طرح چاہیں۔جس طرح قرآن کریم میں ایک نبی کے متعلق آیا ہے کہ ان کی امت نے کہا ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ جو ہمیں خدا نے چیز میں دی ہیں ہم اپنی مرضی کے مطابق ان کو خرچ نہ کریں۔تو طیبات سے اس طرف ہمیں توجہ دلائی گئی کہ خدا تعالیٰ کی ہر نعمت اگر اس کا صحیح استعمال ہوا بدی رحمتوں کے دروازے کھولنے والی ہے اور جو اس کا غلط استعمال ہے اس قرآن کریم نے باطل یعنی ایک