انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 399 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 399

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۹۹ سورة النحل پرانے غلام جو ملے ہیں ورثے میں۔اس کے بعد پھر وہ جو قابلیتیں اور صلاحیتیں ہیں اس کے نتیجہ میں مختلف چیزیں رزق کے ساتھ تعلق رکھنے والی انسان کو ملتی ہیں۔ایک شخص ہے وہ علم میں ترقی کرتا ہے۔اس کے اوپر دو فرض عائد ہو جاتے ہیں۔ایک علم پڑھانا دوسروں تک پہنچانا اپنی قابلیت کو اور اپنے جیسے ذہین لڑکوں کے لئے یہ تدابیر سوچنا کہ وہ بھی اسی طرح انتہائی رفعتوں تک پہنچنے والے ہوں اور دوسرے یہ کہ علمی ترقی کے نتیجہ میں دنیوی اموال جو ہیں وہ حاصل ہوتے ہیں اس میں اگر ایک شخص کہے کہ جی میں آئن سٹائن بن گیا اس واسطے جو دنیا مجھے اموال دیتی ہے اس کے اوپر میں کسی کا حق نہیں سمجھوں گا قرآن کریم کہتا ہے یہ غلط ہے۔تمہیں ہر دوسرے کا حق سمجھنا پڑے گا کیونکہ یہ فضیلت خدا تعالیٰ نے اس لئے نہیں دی کہ تمہاری اجارہ داری ہو جائے بلکہ بہت ساری اشیا پر اس لئے دی ہے کہ تم جہاں خدا تعالیٰ کی دنیوی مادی نعمتوں سے مالا مال ہوئے ہو وہاں تمہارے لئے ایسے سامان پیدا کئے جائیں کہ ان مادی نعمتوں کے صحیح استعمال کے نتیجہ میں تم روحانی نعمتوں کو حاصل کرنے والے بن جاؤ اور جو وقتی طور پر اور ہلاک ہونے والی چیزیں ہیں ان کے ذریعہ سے تم خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق ان کا استعمال کرنے کے نتیجہ میں ابدی نعمتیں جو خدا تعالیٰ کی ہیں اس کی رضا کی ابدی جنتوں سے تعلق رکھنے والی ان کے تم حق دار بنو۔یہاں اس آیت کے آخر میں میں نے اس کا ایک ٹکڑالیا تھا، تو آخر میں ہے کہ پھر کیا وہ اس حقیقت کے جاننے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔تو انکار کے ساتھ ہی اقرار اور انکار دونوں کا یہاں مضمون کے لحاظ سے ذکر ہے اور اقرار کے معنے ہیں خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق کو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق خرچ کرنا اور خدا تعالیٰ کی نعمت کے انکار کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے نعمت حاصل کی اور جس سے پایا اسی کی حکم عدولی شروع کر دی۔یہ ہے کفرانِ نعمت۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيْبَتِ افَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَ بِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ اور اللہ نے تمہیں تمام قسم کی پاکیزہ چیزوں سے رزق بخشا ہے۔کیا پھر بھی ایک ہلاک ہونے والی چیز جود نیوی عطا کی شکل میں تمہارے اوپر نازل ہوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔اس پر تو ایمان رکھو گے اور کہو گے کہ خدا تعالیٰ نے ہم میں پتا نہیں کیا خوبی دیکھی کہ دنیوی اموال سے مالا مال