انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 401
۴۰۱ سورة النحل تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ہلاک ہونے والی چیز قرار دیا ہے یعنی خدا تعالیٰ نے ابدی نعمتوں کو نواز نے کے لئے تمہیں چھوٹی اور بڑی، دینی اور دنیوی نعمتیں عطا کی تھیں لیکن تم نے ان کا محض دنیوی استعمال کر کے اور اپنے ربّ کو بھول کر اور اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر کے اس کو محض ایسے طور پر استعمال کیا کہ وہ آئی اور چلی گئی۔دنیا تو ہے ہی آنی جانی اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے تم وارث نہیں بنے۔۔۔۔۔۔۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَ الْمَحْرُومِ - وَ فِي أَمْوَالِهِمْ کی ضمیر اس آیت میں میرے نزدیک جو میں اب معنی کر رہا ہوں جیسا کہ میں نے بتایا بہت سے بطون ہیں وفي أموالهم وہ لوگ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ کہا ہے نا۔وہ لوگ جن کو ہم نے دوسروں پر فضیلت دی۔انہوں نے تجارت کی اور تجارت کے مال بڑے اکٹھے کر لئے۔انہوں نے زراعت کی اور بڑی آمد پیدا کی اپنی زمین سے۔انہوں نے کارخانے لگائے اور وہ Millionaire بن گئے وغیرہ وغیرہ۔دنیوی لحاظ سے انہوں نے دولتیں اکٹھی کیں۔وہ ذہین تھے ان کو اپنے ذہنوں کی نشوونما کے سامان ہم نے دیئے تھے ان کو انہوں نے استعمال کیا اور سائنس کے میدان میں اور دوسرے علوم کے میدان میں آسمانوں کی رفعتوں تک پہنچ گئے اور اس ذریعہ سے انہوں نے دنیوی اموال بھی کمائے۔محاورہ ہے کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی کہ کمال حاصل کرو دنیا کی عزت بھی حاصل ہو جائے گی اور دنیا کے اموال بھی حاصل ہو جائیں گے۔ان لوگوں کے اموال میں ایک تو یہ گروہ ہو گیا نا۔ایک دوسرا گروہ ہے جو سائل بھی ہے اور محروم بھی ہے۔جس کو ان حقوق کا جو خدا تعالیٰ نے اس کے قائم کئے ہیں علم بھی ہے اور اسے مل نہیں رہے اور وہ ان کا مطالبہ کرتا ہے اور وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق کا علم نہیں اس واسطے مطالبہ ہی نہیں کر سکتا اور وہ خاموش ہے اور محروم ہے۔اس کو پتا ہی نہیں میرے حقوق کیا ہیں۔جیسا کہ اس وقت یہ جو ترقی یافتہ مہذب قو میں ہیں ان کے مزدوروں کو کچھ پتا نہیں کہ ان کا حق کیا ہے اور میں ان سے مذاق میں ہنسی میں مسکراتے چہروں کے ساتھ بات کرتا تھا اور یہ حقیقت ان کے سامنے رکھتا تھا کہ یہ عجیب بات ہے کہ تمہارا مزدور اپنے حق کے حصول کے لئے سٹرائیک کرتا ہے اور اس کو یہ پتا نہیں کہ اس کا حق کیا ہے۔یہ عجیب چیز بن گئی نا! کہ جس چیز کا اس کو علم ہی نہیں اس کے حصول کی وہ کوشش کر رہا ہے۔تو حاصل کیسے کرے گا جس کا علم ہی نہیں اس کو۔