انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 321 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 321

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۲۱ سورة يوسف کر دینا ہمارے لئے ایک بڑا سبق ہے انسان خواہ کتنا ہی مجاہدہ کیوں نہ کرے، ہزار بشری کمزوریاں، کوتاہیاں ساتھ لگی ہیں حالات سے بعض دفعہ مجبور ہو جاتا ہے بعض دفعہ شیطانی وسوسوں سے مجبور ہو جاتا ہے اور گناہ کر بیٹھتا ہے خدا کے فضل کے بغیر خدا کی رحمت کے بغیر اس کی رحمت کو بھی ہم حاصل نہیں کر سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رحمت کے حصول کے لئے بعض راستوں کی تعیین کی ہے بعض اعمالِ صالحہ کے بجالانے کا حکم فرمایا ہے جو شخص اباء اور استکبار سے یہ کہتا ہے کہ خدا کے حکم کو تو میں نہ مانوں گا لیکن اس کی رحمت کا میں امیدوار بنوں گا وہ یا پاگل ہے یا شیطان کے چیلوں میں سے ہے جس نے خدا کی ذات پر علی وجہ البصیرت ایمان لانے کے بعد بھی اس کے احکام کی بجا آوری سے انکار کیا پس ایک راستہ جو خدا کی رحمت کے بے پایاں سمندر تک لے جانے والا ہے وہ یہ ہے کہ کثرت سے اس کا ذکر کیا جائے اور صبح و شام اس کی تسبیح کی جائے جماعت کے معیار کو اس سلسلہ میں بلند کرنے کے لئے میں نے جماعت سے یہ کہا تھا کہ مختلف عمروں کے لحاظ سے مقررہ تعداد میں سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ اور درود اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ پڑھنا ہے کم از کم اتنی تعداد میں پڑھنا ہے یہ نہیں کہ اس سے زیادہ نہیں پڑھنا۔آیت ۶۸ وَ قَالَ يُبَنِي لَا تَدخُلُوا مِنْ بَابِ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ ابواب مُتَفَرِّقَةٍ وَ مَا أَغْنِى عَنْكُم مِّنَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ۔1193 (خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۴۹) میں نے بتایا ہے کہ ایک بھروسہ اور توکل ایک جاہل انسان خدا تعالیٰ سے دور ہو کر حاصل کرتا ہے لیکن اس قسم کے دنیوی سامان میں یا دنیا میں بسنے والے ان عاجز انسانوں میں جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اور جن کے سپر د انسان اپنے بعض کام کرتا ہے آٹھ قسم کی بنیادی خامیاں پائی جاتی ہیں ایک خامی یہ پائی جاتی ہے کہ کوئی دنیا دار جو دوسرے کے لئے کام کرتا ہے یا کوئی دوسرا اس پر اعتماد رکھتا ہے اور اس کو اپنا سہارا بناتا ہے وہ تمام صفات حسنہ سے متصف نہیں ہوتا بعض باتیں اس کی مقدرت میں ہوتی ہیں اور بعض نہیں ہوتیں اس کے اندر بعض کمزوریاں ایسی ہوتی ہیں کہ جو شخص اس کا سہارا لیتا ہے وہ