انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 322 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 322

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۲۲ سورة يوسف اس کی تمام ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا مثلاً بعض دفعہ انسان اپنے کسی اعتماد والے شخص سے دو تین یا چار مرتبہ اپنا کام کرواتا ہے تو وہ اس سے تنگ پڑ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم بار بار آ کر مجھے تنگ کرتے ہو اب تم کسی اور سے اپنا کام کروالو اور بعض دفعہ کوئی کام کرنا اس کی قدرت میں نہیں ہوتا بعض دفعہ دنیا میں اس کے ایسے مخالف ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس کے پاس آیا تو ہم اسے دکھ دیں گے اور اگر وہی شخص کسی دوسرے آدمی کے پاس جائے تو یہ پہلا شخص اسے تنگ کرتا ہے اتنی بات کے دوران یہ نظارہ بڑی کثرت سے نظر آتا ہے ہر پارٹی ووٹروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور بیچارا ووٹر تو ایک ہی پارٹی کو اپنا ووٹ دے سکتا ہے اور اس طرح وہ ہر دوسری پارٹی کو ناراض کر لیتا ہے۔دوسری خرابی یا نقص جو دنیوی بھروسوں میں ہمیں نظر آتا ہے یہ ہے کہ دنیا والے بغیر استحقاق اور بغیر معاوضہ کے کچھ نہیں دینا چاہتے بعض اگر آپ نے ان سے کوئی کام لینا ہے تو آپ کو بھی ان کے بعض کام کرنے پڑیں گے خواہ وہ کام ناجائز اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے ہی کیوں نہ ہوں اگر آپ ان کے کام نہ کریں تو وہ کہیں گے چلے جاؤ ہم آپ کا کام نہیں کریں گے۔تیسری خرابی اور نقص جو دنیا کے سہاروں میں ہمیں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں بقا حاصل نہیں ہوتی بہت سے خاندان کسی خاص شخص کی وجہ سے اور اس کے اثر ورسوخ کے نتیجہ میں اسی دنیا میں دنیوی کامیابیاں حاصل کر لیتے ہیں لیکن جب اچانک وہ شخص فوت ہو جاتا ہے تو یہ خاندان بے سہارا ہو جاتے ہیں یا مثلاً بچے ہیں ان کا سہارا اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کو بنایا ہے اگر کوئی خاندان ایسا ہو کہ وہ اس سہارے کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہ کر لے اور یہ سمجھے کہ اگر والد فوت ہو گیا تو ہم بے سہارا ہو جائیں گے ہم دنیا میں کچھ نہیں کر سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن اگر وہ زندہ رہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا سہارا ہے اس کی وجہ سے ہم دنیا میں ترقی کرتے چلے جائیں گے غرض باپ یا سرپرست کو ابدی حیات حاصل نہیں ہوتی اور وہ ایک دن مرجاتا ہے اور بچے یتیم اور بے سہارا رہ جاتے ہیں اور دنیا ان یتیموں کو سہارا نہیں دیتی اور نہ وہ دے سکتی ہے۔چوتھا نقص دنیوی سہاروں میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ وہ بعض دفعہ کسی کی مدد کرنا بھی چاہیں تو وہ اپنی ہر بات منوا نہیں سکتے مثلاً ایک شخص کسی بڑے حاکم کا دوست ہے وہ اس کے پاس جاتا کہ میرا فلاں کام کر دو اور اس کی بڑی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے اس دوست کا کام کر دے لیکن کام کرنے والا