انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 320 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 320

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث بھر جانے چاہئیں۔۳۲۰ سورة يوسف اكثر النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ اکثر لوگ غیب کی ان باتوں کی طرف مومنانہ فراست سے متوجہ نہیں ہوتے اور ان کے دل حمد سے خالی رہتے ہیں۔(خطبات ناصر جلد اول صفحه ۹۸،۹۷) آیت ۴۱ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءَ سَيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَ ابا وكُمْ مَّا اَنْزَلَ اللهُ بِهَا مِنْ سُلْطن اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ أَمَرَ اَلَا تَعبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيْمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ) فیصلہ کرنا اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں۔(بڑے عجیب اعلان ہوئے ہوئے ہیں قرآن کریم میں ) اِنِ الْحُکم الا للہ اور اس نے حکم دیا ہے جس کے اختیار میں فیصلہ کرنا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔یہی درست مذہب ہے۔خالص توحید۔اعلان کرنا آسان ہے۔عمل کرنا مشکل بھی ہے، آسان بھی ہے۔عمل کر کے جو نعماء ملتی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور فضل نازل ہوتے ہیں ان کا شمار نہیں۔یہ توفیق کہ انسان کا رواں رواں یہ پکار رہا ہو مولا بس۔اللہ کے سوا ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔جو ایسا نہیں سمجھتے ، کچھ بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں کچھ بھروسہ غیر اللہ پر رکھتے ہیں لا يَعْلَمُونَ کے گروہ میں شامل ہو جاتے ہیں یعنی وہ لوگ جواب سے، روحانی پاکیزگی سے مومنانہ فراست سے محروم کئے گئے ہیں۔( خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۴۱۳) آیت ۵۴ وَمَا أُبَرِى نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِ جو فقرہ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے یعنی مَا أُبَرِى نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوء خدا کا ایک برگزیدہ نبی یا وہ جو نبوت کے لئے خدا کے فرشتوں کی گود میں پرورش پا رہا تھا اس کے منہ سے یہ فقرہ نکلنا اور قرآن کریم کا اسے بیان