انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 148 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 148

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۴۸ سورة الاعراف ناپسندیدہ ہے اور گناہ ہے اور خدا تعالیٰ کے غضب کو مول لینے والی بات ہے۔بعض مذاہب کی طرح اسلام یہ نہیں کہتا کہ مومن یا مسلمان سے سود نہ لے، اسلام یہ کہتا ہے کہ کسی سے بھی سود نہ لے خواہ وہ عیسائی ہو یا یہودی ہو یا ہندو ہو یا سکھ ہو یا کوئی بد مذہب ہو، کمیونسٹ ہو۔شود کسی سے بھی نہیں لینا۔میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا میں ہر چیز کی چھوٹی چھوٹی مثالیں دے رہا ہوں۔جس وقت بعض قو میں کسی علاقہ پر غالب آجاتی ہیں تو وہ یہ بھی کیا کرتی ہیں کہ سود کے ذریعہ سے استحصال دولت کرتی ہیں تو اسلام نے یہ نہیں کہا کہ سُود کے ذریعہ سے دولت سمیٹنے کے لئے غیروں کو نشانہ نہ بناؤ بلکہ یہ کہا کہ کسی سے بھی سود نہیں لینا۔پھر اسلام یہ نہیں کہتا کہ مسلمان کو گالی نہیں دینی بلکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ غیر مسلم کو بھی جو اسلام پر ایمان نہیں لا یا اس کو بھی گالی نہیں دینی ، ان کے خداؤں کو بھی گالی نہیں دینی۔شرک ہے یہ اتنا بڑا ظلم ہے لیکن اسلام کہتا ہے کہ ان کے بتوں کو بھی گالی نہیں دینی۔پس اسلام نے انسان کے حقوق بھی قائم کئے ہیں اور انسان کے حقوق کی حفاظت بھی کی ہے۔میں نے چند مثالیں دی ہیں ورنہ سارا قرآن کریم اس سے بھرا ہوا ہے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۱۸۵ تا ۱۹۱) خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتایا ہے کہ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ میری رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے اس کی وسعت سے کوئی چیز باہر نہیں۔پس انسان کے ساتھ مخلوق کے ساتھ خدا تعالیٰ کا جو تعلق ہے وہ رحمت کی بنیاد پر ہے۔اللہ تعالیٰ کی جو صفات قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں جن کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے ان میں سے بعض صفات ایسی بھی ہیں جن کا ناراضگی کے ساتھ تعلق ہے لیکن وہ بھی رحمت ہی کا حصہ ہیں کیونکہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی بہتوں کے لئے اصلاح کا نتیجہ پیدا کرتی ہے اور بہتوں کیلئے جو باقی رہ جاتے ہیں جن کے لئے اس دنیا میں نہیں کرتی ان کے لئے اُس دنیا میں اصلاح کا نتیجہ پیدا کرتی ہے اس واسطے وہ رحمت ہی کا ایک حصہ ہے۔جس طرح بھیڑیں چرانے والا اس بھیڑ کو جو اِدھر اُدھر ہو جاتی ہے ڈانٹ کی آواز نکال کر یا اپنی سوٹی دکھا کر اس راستے پر لے آتا ہے جس پر وہ اپنے گلے کو چرانا چاہتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ کے کامل مظہر تھے۔ہر نبی اور مامور اور وہ نیک بندے جن سے اللہ تعالیٰ کام لیتا ہے وہ اس کی رحمت کے جلوے ہی ظاہر کرنے والے ہوتے