انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 147
۱۴۷ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث حیثیت میں تو اس دنیا میں زندگی نہیں گزارتا۔یہ ایک ایسا جاندار ہے جو گہرے جذبات رکھتا ہے۔چنانچہ انسان مومن ہو یا کافر اس کے جذبات کا خیال رکھا اور ان میں کوئی تفریق پیدا نہیں کی۔بعض دوسرے مذاہب نے بعض باتوں میں تفریق کی ہے لیکن اسلام نے انسان انسان میں کوئی تفریق پیدا نہیں کی۔جہاں تک انسانی جذبات کا تعلق ہے مومن اور کا فر میں فرق نہیں۔انسانی جذبات برابر ہیں ہرانسان یہ چاہتا ہے کہ اسے خواہ مخواہ طعن و تشنیع نہ کی جائے۔ہرانسان یہ چاہتا ہے کہ بلاوجہ اس کے فضول القاب نہ رکھے جائیں ، بُرے نام نہ رکھے جائیں۔خدا تعالیٰ نے یہ قید لگائے بغیر کہ وہ مسلمان ہے یا کافر یہ کہا کہ انسان کے بڑے بڑے نام نہیں رکھنے۔بُرے نام رکھنے سے اور طعن و تشنیع کرنے سے منع کیا۔خواہ کوئی مومن کے نام رکھے تب بھی بڑا اور اسلامی تعلیم کے خلاف اور کافر کے نام رکھے تب بھی بڑا اور بیسیوں مثالیں ہیں۔لَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُم اور لَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات :۱۲) کے علاوہ فرمایا وَ اجْتَنِبُوا قَولَ النُّورِ (الحج: ۳۱) کہ جھوٹ نہیں بولنا۔یہ نہیں کہا کہ مسلمان کے خلاف جھوٹ نہیں بولنا بلکہ اسلام نے کہا کہ کسی کے خلاف بھی جھوٹ نہیں بولنا اور ہر ایک کے حق میں اور ہر ایک کے متعلق سچی بات کہنی ہے، جھوٹ ہرگز نہیں بولنا۔پھر اسلام نے کہا کہ وَمَنْ يَكْسِبُ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مبينا (النساء:۱۱۳) کسی انسان پر بہتان نہیں باندھنا۔اسلام نے یہ نہیں کہا کہ کسی مسلمان پر بہتان نہیں باندھنا بلکہ کہا کہ کسی انسان پر بہتان نہیں باندھنا۔انسان کے حقوق کی حفاظت کی کہ اس نے جو قصور نہیں کئے خواہ مخواہ اس پر بہتان لگا کر یہ نہ کہا جائے کہ اس نے یہ قصور کیا ہے یا گناہ کیا ہے۔پھر اسلام کہتا ہے کہ انصاف پر قائم رہتے ہوئے سچی گواہی دینی ہے۔كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلهِ (النساء:۱۳۶) اسلام یہ نہیں کہتا کہ مسلمان کے حق میں سچی گواہی دینی ہے اور کافر کے خلاف بے شک جھوٹی گواہی دے دو۔اسلام کی یہ تعلیم نہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کہ رَحْمَةٌ لِلعالمین ہیں مومن اور کافرسب کے حقوق کی حفاظت کی ہے۔پھر اسلام کہتا ہے کہ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اقْرَبُ لِلتَّقْوى (المائدة: 9) اسلام کہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ عدل اور انصاف کو قائم رکھنا ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ اگر کوئی غیر مومن ہے اور غیر مسلم ہے تو اس پر ظلم کرنا جائز ہے بلکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ جتنا ایک مسلمان پر ظلم کرنا بڑا ہے اتنا ہی غیر مسلم پر ظلم کرنا برا ہے اور خدا تعالیٰ کو