انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 149
۱۴۹ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ہیں لیکن رحمت رحمت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ایک رحمت وہ ہے جو صرف یہود کے قبائل کے لئے تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شکل میں دنیا پر ظاہر ہوئی۔ایک رحمت وہ ہے جو دوسرے انبیاء کی شکل میں ظاہر ہوئی یعنی خدا تعالیٰ کی رحمت کا ایک محدود جلوہ انہوں نے جذب کیا اور وہ افریقہ میں بسنے والے انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کا موجب بنے اور انہوں نے ان کی خدمت کی اور ان کی خیر خواہی میں اپنی زندگی کو خرچ کیا اور ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جو اس علاقے کی خیر خواہی کے لئے تیار کی گئی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رَحْمَةٌ لِلعلمین ہیں۔کسی ایک علاقے یا کسی ایک زمانے سے آپ کا تعلق نہیں۔آپ کامل مظہر ہیں اس خدا کے جس کی رحمت کے احاطہ سے کوئی چیز باہر نہیں۔۔۔۔۔۔۔ہر دو جہان کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت ہیں۔محض انسان کے لئے نہیں بلکہ ہر دو جہان کے لئے آپ کا وجود رحمت ہے اور ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اور آپ کے سارے ارشادات کی ، جو کہ قرآن کریم کی تفسیر ہیں ، ہم اتباع کرنے والے ہوں۔خدا تعالیٰ کی محبت کو پانے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے کے لئے ، اس کے قرب کے حصول کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ بنایا گیا ہے آپ کو بطور اُسوہ کے قائم کیا گیا ہے لیکن دنیا کی اکثریت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظمت سے ناواقف ہے اور ہمارے ایمان کے مطابق آج جماعت احمدیہ کو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ یہ جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چل کر، اس رحمت کا دنیا کے سامنے مظاہرہ کر کے، اس رحمت کو دنیا کے سامنے بیان کر کے، اس رحمت کے مطابق عمل کر کے دنیا کو اسلام کی طرف لے کر آئے ، یہ بڑی ذمہ داری ہے۔کوئی بات بھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی معمولی اور غیر اہم نہیں مثلاً یہ عقیدہ جو کہ میں نے شروع میں بیان کیا تھا کہ ایک وقت میں جہنم بھی خالی ہو جائے گی یہ محض ایک فلسفیانہ عقیدہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے خدا تعالیٰ کی منشا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تعلیم لے کر آئے اس کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔وہ اور ہوں گے مذاہب ! جنہوں نے اس حقیقت کو نہیں پہچا نا لیکن ایک مسلمان جو قرآن کریم پر غور کرنے والا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے اُسوہ کو اپنی نظر کے سامنے رکھنے والا ہے وہ یہ جانتا