انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 425
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۲۵ سورة ال عمران ہدایت کے تیسرے معنی امام راغب کے نزدیک یہ ہیں کہ ایک شخص جب ہدایت کی راہوں پر چل کر بعض اعمال صالحہ بجالاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو مزید ہدایت کی توفیق عطا کرتا ہے تو ہر عمل صالحہ کے نتیجہ میں بہتر اور جو اللہ تعالیٰ کو نسبتا زیادہ محبوب عمل صالحہ ہے اس کی توفیق اس کو مل جاتی ہے یعنی تدریجی طور پر انسان کو روحانی ترقیات کے مدارج پر چڑھاتی چلی جائے گی اور اس اُمت پر اس کے ذریعہ سے غیر متناہی ترقیات کے دروازے کھولے جائیں گے اور پھر یہ فرمایا کہ بیت اللہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ ھدی للعلمین ( اپنے چوتھے معنی کے لحاظ سے ) ایک ایسی امت مسلمہ پیدا کی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ کے وہ انعامات ملیں گے جو ان سے پہلے کسی امت کو نہیں ملے اور قیامت تک بنی نوع انسان کو اس قسم کے کامل اور اکمل اور مکمل ثواب اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمتیں ملتی چلی جائیں گی کیونکہ ہدایت کے چوتھے معنی امام راغب نے یہ لکھے ہیں۔الْهَدَايَةُ فِي الْآخِرَةِ إِلَى الْجَنَّةِ چونکہ ان کے نزدیک صرف آخرت میں ہی جنت ملتی ہے اس لئے انہوں نے فِی الْآخِرَةِ“ کے الفاظ ( میرے نزدیک ) اپنے اس عقیدے کی وجہ سے زائد کر دئے۔ورنہ لغوی لحاظ سے اس کے یہی معنی ہیں الْهَدَايَةُ إِلَى الْجَنَّةِ یعنی جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے وہ غرض اسے حاصل ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ یہ جنت صرف اُخروی زندگی میں ہی نہیں بلکہ اس دنیوی زندگی میں بھی ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا تھا کہ بیت اللہ کو ہم اس لئے کھڑا کر رہے ہیں اور اس کی حفاظت کے ہم اس لئے سامان پیدا کر رہے ہیں کہ یہاں ایک ایسی امت جنم لے گی جو ثواب اور جزا ان کو ملے گی اور خدا تعالیٰ کی رضا کی جو جنت ان کے نصیب میں ہوگی وہ پہلی قوموں کے نصیب میں نہیں ہوئی ہوگی یعنی بہترین نتیجہ جو انسانی روحانی عمل کا نکل سکتا ہے وہ اس اُمت کے اعمال کا نکلے گا کیونکہ جو شریعت ان کو دی گئی ہے وہ ہر لحاظ سے کامل اور مکمل ہے۔پہلوں کی شریعتیں چونکہ نسبتی طور پر ناقص تھیں۔اگر ان پر پورے طور پر عمل بھی کیا جاتا تو ان کا نتیجہ عقلاً بھی وہ نہیں نکل سکتا تھا جو نتیجہ اس عمل کا نکل سکتا ہے جو ایسی شریعت کے مطابق ہو جو پورے طور پر کامل ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ ھدی للعلمین اس گھر سے جس عالمگیر شریعت کا چشمہ پھوٹے گا اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں الجنّة ایک کامل جنت انسان کو ملے گی اس دنیا میں بھی اور اُخروی دنیا