انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 426 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 426

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالثة ۴۲۶ سورة ال عمران میں بھی۔پس تیسری غرض ( جو آگے بعض ذیلی اغراض میں تقسیم ہو جاتی ہے ) بیت اللہ کے قیام کی هُدًى لِلْعَلَمِينَ ہے۔چوتھا مقصد اس گھر کی تعمیر کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایت بینت ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم خاص قسم کی آیات بینات کا وعدہ انسان کو دیتا ہے یا ان کے متعلق پیشگوئیاں بیان کرتا ہے تو یہاں میرے نزدیک آیات بینات کے عام معنی نہیں ہیں بلکہ یہاں وہ آیات بینات مراد ہیں جو اس پہلے گھر سے تعلق رکھتی ہیں جو وُضِعَ لِلنَّاسِ ہے، جو مُبر گا ہے اور 66-9 جو هُدًى لِلْعَلَمِينَ “ ہے۔اس مفہوم کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرما یا فِیهِ أَيْتُ بَيِّنت اور اس کے معنی یہاں یہ ہیں کہ اس گھر سے تعلق رکھنے والی ایسی آیات اور بینات ہوں گی اور یہ گھر ایسے نشانات اور تائیدات سماوی کا منبع بنے گا جو ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گی۔جو آیات اور بینات پہلے انبیاء یا ان کی قوموں کو دیئے گئے وہ اپنے اپنے وقت پر ختم ہو گئیں اور پہلی امتوں میں سے ہر ایک نے کوئی نہ کوئی منطقی اور غیر تسلی بخش دلیل ڈھونڈ کر یہ دعوی کر دیا کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق قائم نہیں ہوسکتا کہ انسان اس کے قرب کو، اس کی وحی کو، بچے رویا اور کشوف کو اور آئندہ کے متعلق پیشگوئیوں کو حاصل کر سکے تو فرمایا کہ ان دروازوں کو پہلی ہر امت نے اپنے پر بند کر لیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک ایسی اُمت مسلمہ کا قیام بیت اللہ کی تعمیر سے مدنظر ہے کہ قیامت تک ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے نشانات ظاہر ہوتے رہیں گے اور اپنے نشانات اور استجابت دعا اور قربانیوں کا دنیا میں پھل پانے کے نتیجہ میں وہ اُمت دنیا پر یہ ثابت کرتی رہے گی کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا ایک زندہ خدا ہے۔ایک طاقت ور خدا ہے۔وہ بڑا رحم کرنے والا اور پیار کرنے والا خدا ہے وہ ایسے بندوں کو جو اس کے سامنے جھکتے ہیں ضائع نہیں کرتا بلکہ اُن سے تعلق کو وہ قائم کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اُن کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے اور دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ یہ میرے محبوب بندے ہیں وہ اس پر وحی کرتا ہے کشوف ورڈ یا انہیں دکھاتا ہے وہ اس کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ایسے بندے اس اُمت میں پیدا ہوتے رہیں گے جو قیامت تک یہ ثابت کرتے رہیں گے کہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے اور اس سے تعلق رکھنے والے آیات بینات کو حاصل کرتے ہیں۔پانچویں غرض اس کا تعلق بیت اللہ سے ہے اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کی ہے کہ یہ مقام ابراھیم