انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 424
تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالثة ۴۲۴ سورة ال عمران عالم عقل کے لحاظ سے اور فراست کے لحاظ سے اور معارف کے لحاظ سے اور علوم کے لحاظ سے ایک جیسی قابلیت رکھتے ہیں۔کسی قوم کو اس لحاظ سے کسی دوسری قوم پر برتری نہیں ہے۔اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ جس زمانہ میں حقیقتا ھدی للعلمین کا جلوہ دنیا پر ظاہر ہوگا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اس وقت بعض قو میں دنیا میں ایسی بھی پیدا ہو جائیں گی جو یہ کہنے لگیں گی کہ ہم زیادہ عقل مند ہیں۔ہمارے اندر زیادہ فراست اور علوم حاصل کرنے کی زیادہ قابلیت ہے اور بعض قو میں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہی اس غرض سے ہے کہ وہ ہماری محکوم رہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس گھر کے ذریعہ سے ہم ثابت کریں گے کہ اپنی عقل اور فراست اور بنیادی علوم کے لحاظ سے قوم ، قوم میں تمیز نہیں کی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور اس غرض کو حاصل کرنے کے لئے جس عقل کی ، جس فراست کی ، جن معارف کی اور جن علوم کی ضرورت تھی وہ سب اقوام کو برابر دئے ہیں یعنی ان کے اندر برابر کی استعدادیں ہیں۔فرد فرد کی استعداد میں تو فرق ہو سکتا ہے لیکن کسی ایک قوم کو دوسری قوم پر برتری حاصل نہیں۔دوسرے معنی هدى للعلمین کے یہ ہیں کہ اللہ تعالی اس بیت اللہ کے مقام سے قرآن کریم کا نزول شروع کرے گا کیونکہ مفردات راغب میں ہے کہ هَدَايَة کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ آسمانی ہدایت کہ جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعہ اور پھر قرآن کریم کے نزول کے ساتھ بنی نوع انسان کو بلایا ہو کہ ادھر آؤ یہ ہدایت کے راستے ہیں ان پر چلو تب مجھ تک پہنچ سکتے ہو۔تو ہدایت کے معنی میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے تمام انبیاء ایک سے شریک ہیں لیکن هُدًى لِلْعَلَمِينَ کے معنی حقیقی طور پر سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی نبی پر چسپاں نہیں ہوتے کیونکہ باقی تمام انبیاء اپنے زمانوں اور اپنی اقوام کی طرف مبعوث کئے گئے تھے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بیت اللہ قرآن کریم کے نزول کی جگہ ہے یہاں سے قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوگا۔اس غرض سے ہم اس کی حفاظت کر رہے ہیں اور اس کی تطہیر وغیرہ کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔هدى للعلمین کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بیت اللہ ایک ایسا مقام ہے کہ یہاں اس شریعت کی ابتدا ہو گی جو انسان پر غیر متناہی ترقیات کے دروازے کھولے گی کیونکہ