انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 229
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث خلیفہ ۲۲۹ سورة البقرة میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کی توفیق پاتا ہے اور اس طرح اس کی ساری زندگی نیکیوں میں گزرتی ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی ساری عمر اس مقصد کے لئے گزاری جس کیلئے اسے پیدا کیا گیا تھا۔ولتكبروا اللهَ عَلَى مَا هَدْكُمْ الله تعالی فرماتا ہے کہ اس مہینہ میں میں تم پر اتنی روحانی نعمتیں اور برکتیں نازل کروں گا کہ تم اپنے آپ کو مجبور پاؤ گے کہ اللہ تعالی کی کبریائی کا اعلان کرتے پھرو اور پھر تم قربانی کے ہر موقع کو تکلیف اور دکھ نہیں سمجھو گے بلکہ فضل الہی جانو گے وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ اور يفضل تم پر اس لئے بھی نازل ہوں گے کہ تمہارے دل اس کے شکر سے بھر جائیں اور جس مومن کا دل اس کے شکر سے بھر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور دور اس کے لئے شروع ہو جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهیم : ۸) یعنی میرا شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ا پس جب اللہ تعالی کا انعام نازل ہوا اس لئے کہ اس نے ہماری حقیر سی کوشش کو قبول فرمالیا تو اس کے نتیجہ میں ہمارے دل میں شکر کے جذبات پیدا ہوئے فرمایا لازید نکھ کہ میں تمہیں اور نیکیوں کی توفیق بخشوں گا۔پھر اس کی وجہ سے اور شکر کے جذبات پیدا ہوں گے۔گویا اس طرح ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔اسی تسلسل اور مخلصانہ نیت کی وجہ سے اُخروی زندگی محدود اعمال کے باوجود ابدی زندگی ہو جائے گی۔پھر فرمایا۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ کہ جب میں نے اپنے بندوں کو یہ بتایا کہ تم پر بڑے انعامات نازل ہوں گے بڑا فضل نازل ہوگا اور تم خدا کے مقرب بن جاؤ گے تو اس پر میرے بندے کہیں گے کہ ہمارا رب تو محض کبریائی ہے۔محض پاکیزگی ہے۔رفیع الدرجات ہے۔تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے کمال تام اسی کو حاصل ہے اور وہ اتنا ارفع اور اعلیٰ ہے کہ اس کی رفعتوں تک ہمارا تخیل بھی نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی اس کی رفعتوں کی کوئی انتہا ہے۔لیکن جب ہم اپنے کو دیکھتے ہیں تو اپنے کو خطا کار، گنہگار اور نہایت ضعیف پاتے ہیں۔اس طرح ہمارے درمیان اور ہمارے رب کے درمیان لامتناہی فاصلے پائے جاتے ہیں۔کیا ہماری حقیر کوششوں کے نتیجہ میں ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوسکتا ہے؟