انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 230
تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث سورة البقرة فرمایا۔جب میرے بندے تجھ سے اس معاملہ کے متعلق سوال کریں تو تم انہیں کہہ دو کہ بے شک تم کمزور بھی ہو۔تم گنہگار بھی ہو۔تم خطار کار بھی ہو۔میں تمام بلندیوں کا مالک اور تمام رفعتیں میری طرف ہی منسوب ہوتی ہیں لیکن میری ایک اور صفت بھی ہے اور وہ یہ کہ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جبيعًا ( الزمر : (۵۴) کہ اگر میں چاہوں تو ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہونے کی وجہ سے اپنے بندوں کے تمام گناہوں کو بخش بھی دیا کرتا ہوں اور جب گناہ میری مغفرت کی چادر کے نیچے چھپ جائیں تو پھر میرے اور تمہارے درمیان جو گناہوں کے فاصلے ہوں گے وہ مٹ جائیں گے اور میں خود آسمانوں سے اتروں گا اور تمہارے قریب آجاؤں گا اور تمہیں اپنا مقرب بنالوں گا۔أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ اور اس کی علامت یہ ہوگی کہ تم دعا کرو گے تو میں اسے قبول کرلوں گا تا کہ دنیا یہ نہ کہہ سکے کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا جو قرب حاصل ہے وہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی برکت سے حاصل ہوا ہے یہ محض تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔اس قرب کی دلیل مہیا کرنے کیلئے میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا تا کہ دنیا یقین کرلے کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو۔واقعی سچا ہے۔اگر تم گریہ وزاری اور عجز و انکسار اور تذلل کے ساتھ میرے سامنے جھکتے رہو گے تو دنیا أَجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کے نظارے بھی دیکھتی چلی جائے گی۔دعا اور قبولیت دعا کے متعلق ہمیں یہ یا درکھنا بھی ضروری ہے کہ ہمارا رب ہماری دعائیں قبول تو کرتا ہے لیکن اپنے فضل اور اپنی مرضی سے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ گو یا خدا تعالیٰ ہمارا غلام ہے نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ) اس کا فرض ہے کہ ہماری دعا کو اس رنگ میں قبول کرے جس رنگ میں کہ ہم چاہتے ہیں۔لیکن یہ خیال بالکل غلط ہے کیونکہ وہ تو تمام طاقتوں کا مالک ہے اور وہ محض اپنے فضل سے نہ کہ ہماری کسی خوبی کی وجہ سے ہمارے لئے قرب کی راہیں کھولتا ہے اور ہماری دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔چونکہ وہ علام الغیوب ہے۔ہم نہیں جانتے مگر وہ جانتا ہے کہ جو دعا ہم اپنے لئے جس رنگ میں مانگ رہے ہیں وہ ہمارے لئے اچھی بھی ہے یا نہیں۔تب بعض دفعہ وہ ہماری دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے ہمارے لئے خیر کی راہیں اس طرح کھول دیتا ہے کہ جو ہم نے مانگا تھا وہ نہیں دیتا اور جو ہم نے نہیں مانگا تھا وہ ہمیں دے دیتا ہے۔پھر وہ ہمارے اخلاص اور محبت کے دعویٰ کی آزمائش بھی کرتا ہے کہ کیا ہم اپنے دعوی میں سچے بھی