انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 228

تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۲۲۸ سورة البقرة سارے مہینے میں روزے رکھے اور ان اجتماعی برکات سے فائدہ اٹھائے جو اجتماعی عبادات سے تعلق رکھتی ہیں۔دوسرے اس کے معنی یہ ہیں اور یہ زیادہ لطیف ہیں کہ جو زندگی تمہیں دی گئی ہے اسے تم پورا کرو۔اس کا کمال تمہیں حاصل ہو۔اس میں اشارہ ہمیں بتایا کہ اگر کسی شخص کے پاس مثلاً سوروپیہ ہے۔اگر اس میں سے ہیں رو پے گم ہو جائیں یا چوری ہو جائیں اور باقی وہ خرچ کرے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس نے تمام سو روپیہ خرچ کیا ہے کیونکہ اس کے پاس خرچ کرنے کے لئے تو صرف اتنی روپے رہ گئے تھے سو کا سور و پیہ وہی خرچ کرتا ہے جس کے پاس وہ سو کا سور و پیہ موجود بھی ہو۔فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک کو ہم نے ایک پیمانہ کے مطابق عمر دی ہے اور ہم نے تم پر دینی فرائض اس لئے واجب کئے ہیں تا کہ تم اپنی عمر کو پوری طرح گزار سکو اور اس کا کوئی لمحہ ضائع نہ ہو۔ایک شخص کی عمر سوسال ہو اس میں سے ۲۰ سال اس نے دنیا کی لہو ولعب میں ضائع کر دئے ہوں تو حقیقتاً اس نے سو سال کی زندگی نہیں گزاری کیونکہ میں سال اس نے مردہ ہونے کی حالت میں گزارے ہیں۔سو سال کی عمر پانے والا سو سال کی زندگی اسی صورت میں صحیح طور پر گزارتا ہے جس صورت میں کہ اس نے ساری زندگی اپنے اللہ کی اطاعت میں گزاری ہو۔جس شخص نے اپنی زندگی کے چند لمحات یا زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے پہلو تہی کرتے ہوئے ، اس سے منہ موڑتے ہوئے ، نیک نیتی اور اخلاص کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گزارا ہو اس کی عمر کا وہ حصہ ضائع ہو گیا۔اور نہیں کہہ سکتے کہ اس نے اپنی پوری عمر جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی تھی وہ حقیقتاً اس نے اس دنیا میں گزاری کیونکہ یہاں کی پیدائش کا ایک مقصد ہے اور جو حصہ عمر اس مقصد کے خلاف خرچ ہوتا ہے وہ عمر ضائع جاتی ہے۔پس فرمایا کہ اگر تم ماہ رمضان کی برکات سے پوری طرح فائدہ اٹھانا چاہتے ہو اور اس کے لئے اپنی عمر کو خرچ کرتے ہو تو دیگر برکات کے علاوہ تمہیں ایک یہ برکت بھی حاصل ہوگی کہ تمہیں اللہ تعالیٰ عمر دوسری نیکیاں کرنے کی بھی توفیق دے گا اور اس مہینہ کے بعد جو گیارہ ماہ اور تمہاری زندگی میں آنے والے ہیں وہ بھی حقیقی معنی میں تم خدا کی راہ پر خرچ کرنے والے ہو گے۔تو جو شخص رمضان شریف کو نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ گزارتا ہے تو بقیہ سال کے گیارہ مہینوں