انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 205 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 205

۲۰۵ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث وَابْنَ السَّبِيلِ (مسافر) کے متعلق میں ایک بات بیان کر کے اپنے خطبہ کو بند کر دوں گا۔(ورنہ اس آیت کے مضامین بہت وسیع ہیں) اللہ تعالیٰ نے مسافر کے ساتھ ہمدردی، اخوت کا سلوک کرنے اور اسے مالی امداد دینے پر بڑا زور دیا ہے اور مختلف مقامات میں زور دیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم ہر اس شخص سے جو ہمیں اپنے ماحول میں اجنبی نظر آئے واقفیت پیدا کریں ورنہ ہم اس کی خدمت نہیں کر سکیں گے۔ابھی چند روز ہوئے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ میں باہر کی ایک جماعت میں گیا مسجد میں پہنچ کر میں نے اپنا بیگ رکھا اور نماز ادا کی وہ دوست کہتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں کی مہمان نوازی کی ضرورت یہ تھی کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہوا ہے، میری جیب میں پیسے تھے اور مجھے خیال بھی نہ تھا کہ میں کسی کے پاس جا کر کھانا کھاؤں۔لیکن مجھے یہ احساس ہوا کہ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ مسافر کا خیال رکھو مگر ہمارے ان دوستوں نے میری طرف کوئی توجہ ہی نہیں کی۔ہو سکتا ہے کہ میری طرح کوئی اور مسافر یہاں آئے اور وہ ضرورت مند ہو۔اگر اس سے بھی ایسا ہی بے توجہی کا سلوک ہو تو اس کی ضرورت پوری نہ ہو گی اسی احساس کے ماتحت میں یہ رپورٹ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں تا کہ آپ دوستوں کو اس طرف متوجہ کریں۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۲۷۰ تا ۲۷۴) آیت ۱۸۴ ۱۸۸ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ أَيَّامًا مَّعْدُودَتِ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَ اَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ اِن كُنتُم تَعْلَمُونَ شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى ® لِلنَّاسِ وَ بَيّنَتِ مِنَ الْهُدى وَ الْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَهرَ b b فَلْيَصُهُ ، وَ مَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ - يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ