انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 206 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 206

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ٢٠٦ سورة البقرة عَلى مَا هَدَيكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا فِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ أَحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَا بِكُم هُنَّ ط لِبَاسٌ تَكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالْنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا القِيَامَ إِلَى الَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَ ص ص ج اَنْتُمْ عَكِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ ايَتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ (۱۸۸ آیات کی تو میں نے تلاوت کر دی، ان کا ترجمہ تفسیر صغیر کے ترجمہ کی روشنی میں یہ ہے یایھا الَّذِينَ آمَنُوا اے لوگو! جو ایمان لائے ہو خدا اور اس کے رسول اور اس عظیم کتاب پر تم پر بھی روزوں کا رکھنا اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تا کہ تم روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے بچو۔آیا ما معدودت سو تم روزے رکھو چند گنتی کے دن اور تم میں سے جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو اسے اور دنوں میں تعداد پوری کرنی ہوگی اور ان لوگوں پر جو اس کی طاقت نہ رکھتے ہوں یعنی روزے کی بطور فدیہ ایک مسکین کا کھانا دینا بشرط استطاعت واجب ہے اور جو شخص پوری فرمانبرداری سے کوئی نیک کام کرے گا تو اس کے لئے بہتر ہوگا اور تم سمجھوتو تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے۔رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس کے بارہ میں قرآن کریم نازل کیا گیا۔( میں ترجمہ میں کوئی تھوڑا سا رد و بدل بھی کر رہا ہوں ) اور جس مہینے میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جسے تمام انسانوں کے لئے ہدایت بنا کر بھیجا گیا ہے اور جو کھلے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے۔ایسے دلائل جو ہدایت پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی قرآن کریم میں الہی نشان بھی ہیں اس لئے تم میں