انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 204
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۰۴ سورة البقرة اسی طرح بہت سے دنیا دار مختلف اغراض کے پیش نظر یتامی کی پرورش کے لئے خرچ کرتے ہیں اسی طرح مساکین کی حمایت کا دم بھرنے والے دنیا دار محض دنیا کی خاطر اپنے مال دیتے ہیں۔بہت سی پارٹیاں آپ کو انگلستان اور امریکہ میں نظر آئیں گی کہ جنہیں کمزوروں کے ساتھ کوئی محبت اور پیار نہیں ہوتا۔لیکن اس خیال سے کہ اگر ہم نے ان کو اپنے سینے سے لگایا تو ہمیں سیاسی برتری حاصل ہو جائے گی۔وہ ان کے لئے دوڑ دھوپ کرتی رہتی ہیں۔اسی طرح مسافروں پر بھی اپنا پیسہ خرچ کر کے احسان کیا جاتا ہے تا کہ جب وہ اپنے وطن جائیں تو وہ کہیں کہ زید بڑا اچھا، بڑا خرچ کرنے والا اور بڑا پیار کرنے والا ہے اور مسافروں کا بڑا خیال رکھنے والا ہے ہم اس کے ہاں گئے تو اس نے ہماری بڑی خاطر کی یہی حال اس خرچ کا ہے جو غلاموں کے لئے کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نیکی نہیں، نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے پیسے یا مال کو مال کے معنی مملوکہ چیز کے ہیں انسان اپنے نفس کا بھی مالک ہے، اپنی عزت کا بھی مالک ہے۔اپنے پیسے کا بھی مالک ہے۔وغیرہ ) خرچ کرے تو عَلى حُبه صرف خدا تعالیٰ کی محبت میں خرچ کرے۔خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی خوشنودی کے سوا کوئی غرض اسے مد نظر نہ ہو۔نہ تو اسے عزت کی خواہش ہو۔نہ وجاہت کی خواہش ہو نہ دنیوی شہرت کی خواہش۔اور نہ اس کا ذہن فخر و مباہات کے غبار سے آلود ہو بلکہ جب بھی اور جو کچھ بھی وہ خرچ کرے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے نتیجہ میں اور اس کی خوشنودی کے حصول اور اس کی رضا کے پانے کے لئے خرچ کرے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ نیک شمار نہیں ہوگا اور کسی ثواب کا مستحق نہیں ٹھہرے گا۔اسی طرح فرما یا کہ عبادت بجالا نا خواہ وہ نماز ہو۔یا مالی فرائض ( مثلاً زکوۃ ) ہوں یہ بھی حقیقی نیکی نہیں بلکہ نماز کو ان شرائط کے ساتھ بجالا نا جواللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہیں حقیقی نیکی ہے۔ان شرائط میں سے بنیادی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے سوائے اس کے اور کوئی غرض نہ ہو کہ اس کی خوشنودی حاصل ہو۔تب یہ عبادت صحیح عبادت شمار ہوگی۔اگر کسی نے اپنے نفس کو پالا اور اسے موٹا کیا اور قربانی دینے کے لئے تیار نہ ہوا تو اس کے متعلق یقیناً نہیں کہا جا سکتا۔واقام الصلوة کہ اس نے نماز کو پورے شرائط کے ساتھ ادا کیا۔