انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 124 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 124

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۲۴ سورة البقرة کے رسول کو دُکھ پہنچاتے ہیں اُن کے لئے درد ناک عذاب ہے۔وہ تمہارے خوش کرنے کے لئے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں حالانکہ اللہ بھی اور اس کا رسول بھی زیادہ حق دار ہیں کہ اُس کو خوش کیا جائے بشرطیکہ یہ (منافق) سچے مومن ہوں۔اور اگر تو اُن سے پوچھے ( کہ تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو) تو وہ ضرور یہی جواب دیں گے ہم تو صرف مذاق اور ہنسی کرتے تھے۔تو ان کو جواب دیجیو کہ کیا اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول سے مذاق اور ہنسی کرتے تھے؟ منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔وہ بُری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور اچھی باتوں کے خلاف تعلیم دیتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو ( خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے ) روکتے ہیں۔اُنہوں نے اللہ کو ترک کر دیا سو اللہ نے بھی ان کو ترک کر دیا۔منافق یقیناً اطاعت سے نکلنے والے ہیں۔اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کفار سے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے وہ اس میں رہتے چلے جائیں گے۔وہی ان ( کی پوری تو جہ کھینچنے کے لئے کافی ہے (اور اس کے علاوہ) اللہ نے ان کو (اپنی درگاہ سے ) دھتکار بھی 66 دیا ہے اور اُن کے لئے ایک قائم رہنے والا عذاب ( مقدر) ہے۔“ پھر غزوہ احزاب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنُونَا - هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا - وَإِذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولةَ اللَّا غُرُورًا - (الاحزاب :۱۱ تا ۱۳) ہاں ! اس وقت کو یاد کرو) جب کہ تمہارے مخالف تمہاری اوپر کی طرف سے بھی (یعنی پہاڑی کی طرف سے بھی) اور نیچے کی طرف سے بھی (یعنی نشیب کی طرف سے بھی ) آگئے تھے اور جب کہ آنکھیں گھبرا کر ٹیڑھی ہو گئی تھیں اور دل دھڑکتے ہوئے حلق تک آگئے تھے اور تم اللہ کے متعلق مختلف شکوک میں مبتلا ہو گئے تھے۔اس وقت مومن ایک ( بڑے ) ابتلا میں ڈال دیئے گئے تھے اور سخت ہلا دیئے گئے تھے اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب کہ منافق اور جن لوگوں کے دلوں میں بیماری تھی کہنے لگ گئے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسول نے ہم سے