انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 123
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۲۳ سورة البقرة وو ج قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا وَهُمْ فَرِحُونَ قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا هُوَ مَوْلنَا ۚ وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِرُكَ فِي الصَّدَقَتِ : فَإِنْ أَعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَ إِنْ لَمْ يُعْطُوا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِ وَ يَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أَذُن خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمُ۔يَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ ۚ وَاللَّهُ وَرَسُولُةٌ أَحَقُّ أَنْ يُرْضُوهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ وَلَبِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللهِ وَ ايته وَ رَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِعُونَ الْمُنْفِقُونَ وَ الْيُنْفِقْتُ بَعْضُهُمْ مِّنْ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ الْفَسِقُونَ۔وَعَدَ اللهُ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خُلِدِينَ فِيهَا هِيَ حَسْبُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ (التوبة: ۶۸،۶۷،۶۵،۶۲،۶۱،۵۸،۵۱،۵۰،۴۸) انہوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ (پیدا کرنا ) چاہا تھا اور تیرے لئے حالات کو کئی کئی طرح بدلا تھا یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا فیصلہ ظاہر ہو گیا اور وہ اس فیصلہ کو نا پسند کرتے تھے۔اگر تجھے کوئی فائدہ پہنچے تو اُن کو بڑا لگتا ہے اور اگر تجھ پر کوئی مصیبت آجائے تو وہ کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی سے اپنے پیش آنے والے دنوں کا انتظام کر لیا تھا اور وہ خوشی کے مارے پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔تو (اُن سے ) کہہ دے ہم کو تو وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے ہمارے لئے مقرر کر چھوڑا ہے وہ ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ پر ہی تو کل رکھیں۔اور اُن میں سے کچھ (منافق) ایسے ہیں جو صدقات کے بارے میں تجھ پر الزام لگاتے ہیں اگر ان صدقات میں سے کچھ اُن کو دے دیا جائے تو وہ راضی ہو جاتے ہیں اور اگر ان میں سے انہیں کچھ نہ دیا جائے تو فوراً خفا ہو جاتے ہیں۔اور اُن میں سے بعض ایسے (منافق) بھی ہیں جو نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو ( کان ہی) کان ہے تو کہہ دے کہ وہ تمہارے لئے بھلائی سننے کے کان رکھتا ہے وہ اللہ پر ایمان لاتا ہے اور جو تم میں سے مومن ہوں اُن (کے وعدوں ) پر ( بھی ) یقین رکھتا ہے اور مومنوں کے لئے رحمت کا موجب ہے اور وہ لوگ جو اللہ