انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 125
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث صرف ایک جھوٹا وعدہ کیا تھا۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔۱۲۵ سورة البقرة هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَايِنُ السَّيُوتِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ - يَقُولُونَ لَبِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْآعَةُ مِنْهَا الْأَذَلَ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ۔( المتفقون : ٩،٨) یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول کے پاس جولوگ رہتے ہیں اُن پر خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ وہ ( فاقوں سے تنگ آکر ) بھاگ جائیں حالانکہ آسمان اور زمین کے خزانے اللہ کے پاس ہیں ، لیکن منافق ( اس حقیقت کو ) سمجھتے نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو جو مدینہ کا سب سے معزز آدمی ہے ( یعنی عبد اللہ بن اُبی بن سلول اپنے زعم میں ) وہ مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی کو اس سے نکال دے گا۔اور عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کو ہی حاصل ہے لیکن منافق جانتے نہیں۔قرآن کریم نے متعدد جگہوں پر مختلف رنگ میں منافقوں کا ذکر کیا ہے ان کی علامتیں بتائی ہیں اور وہ فتنہ پھیلانے کی جورا ہیں اختیار کرتے ہیں ان کا ذکر کیا ہے چونکہ قرآن کریم صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے لئے نہیں اُتر ا تھا بلکہ قیامت تک کے انسانوں کے لئے نازل ہوا تھا اور لوگوں کے لئے ہدایت، کامیابی اور فلاح کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں اور اس کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے آیا ہے اس لئے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے جن جن مضامین کا ذکر ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اُن مضامین کو ذہن نشین کیا کریں۔ہم اپنے ماحول میں اور اپنے معاشرہ میں شیطان کے لئے کوئی راہ کھلی نہ رہنے دیں اور جو طریقے قرآن کریم نے بتائے ہیں وہ واضح ہیں البتہ اُن میں یہ طریقہ نہیں ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا جائے بلکہ دُعا کا طریقہ ہے سمجھانے کا طریقہ ہے اور پھر یہ یقین ہے کہ اگر منافق اصلاح نہیں کریں گے تو اُن کو سزا دینا انسان کا کام نہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اُن کو اس دُنیا میں بھی سزا دوں گا اور وہ اُخروی زندگی میں جہنم میں جائیں گے۔یہ خدا کا کام ہے یہ انسان کا کام نہیں ہے لیکن انسان کا یہ کام ہے کہ وہ کسی منافق کو اپنے معاشرہ میں فتنہ پیدا نہ کرنے دے اللہ تعالیٰ ہمیں چوکس رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔( خطبات ناصر جلد ششم ۲۶۱ تا ۲۶۷)