قندیلیں — Page 6
ایک دفعہ نانی اماں جو حضرت اماں جان حرم حضرت بانی سلام احمدیہ) کی والدہ تھیں۔حضرت صاحب کے گھر تشریف لائیں تو گھر کی ملازمیہ نے ان سے گستاخی کی۔آپ ناراض ہو کر نچلے دالان میں چلی گئیں اور اوپر گھر میں جانے سے انکار کر دیا۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ کو حب اس کا علم ہوا تو آپ اپنی بیگم صاحبہ (حضرت اماں جان) کا ہاتھ پکڑ کر ان کو نیچے لے گئے۔نانی اماں بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔حضرت صاحب نے چار پائی کی پائنتی کی طرف ان کو کھڑا کر کے اپنے ہاتھ سے ان کا نسر پہنچا کیا اور والدہ کے پاؤں میں ان کا سر رکھ کر بوسہ دینے کا اشارہ کیا۔اس کے بعد آپ اوپر تشریف لے گئے۔ماں نے بیٹی سے بارانگی دور کی اور خوشی خوشی اوپر تشریف لے گئیں۔ر روزنامه الفضل ۲۸ فروری ۱۹۹۵ء) آخر میں حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کی ایک نصیحت جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے درج کرتی ہوں۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب فرماتے ہیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے یہ حضور کی آخری نصیحت تھی جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا۔جماعت احمدیہ کے لئے بہت فکر کا مقام ہے۔کیونکہ ایک طرف تو لاکھوں آدمی انہیں کافر کافر کہتے ہیں۔دوسری طرف اگر یہ بھی خدا تعالی کی نظر میں مومن نہ بنے تو ان کے لئے دوسرا گھاتا ہے۔" اللہ تعالی سے دعا ہے کہ جماعت احمد یہ ان قندیلوں کو اپنے سینوں میں روشن دعا احمدیہ ان کو اپنے سینوں میں کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کی وارث بنے (آمین)