قندیلیں — Page 181
خدا کو آزماتے نہیں نصرت ظفر صاحبہ اپنے شوہر مکرم چودھری ظفراحمد روفات یافتہ ) کے متعلق لکھتی ہیں کہ انہوں نے قبولیت دعا کا مشاہدہ کیا۔ان کو خدا پر تو کل تھا۔جب وہ اپنی قبولیت دعا کے واقعات سناتے تو ان کا ایک غیر احمدی دوست مذاق اڑاتا کہ یہ سب اتفاقات ہیں۔ایک روز چھٹی کے دن اس دوست کے ساتھ پارک میں سیر کرنے کا پروگرام بنایا۔اس کی بیوی اور بچہ بھی ساتھ تھے۔اتفاق سے دودھ ختم ہو گیا اور بچے نے رونا شروع کر دیا۔وہ اپنے میاں سے کہنے لگی کہ کہیں جاکر دو دمد کا انتظام کرو۔اس نے کہا۔اس وقت تو نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم شہر سے بہت دور ہیں۔ویسے بھی دوکانیں بند ہو چکی ہیں۔پھر نہس کر کہنے لگا۔اپنے دیور (ظفر) سے کہو کہ یہ خدا سے مانگ دے کیونکہ یہ کہتا ہے کہ میری دعائیں خدا سُنتا ہے۔ظفر کہنے لگے کہ وہ دے سکتا ہے لیکن اپنے آزماتے نہیں۔اور کہتے ہیں کہ میں نے دل میں دُعا کی کہ اسے خدا اس شخص نے میرے توکل اور تیری قدرتوں کامذاق اڑایا ہے تو کرشمہ دکھا۔چند قدم ہی چلے ہوں گے کہ سامنے سے دو بوڑھی عورتیں گزریں۔بچے کو دیکھ کر وہ مڑیں اور دودھ کا ڈیہ دیتے ہوئے کہنے لگیں کہ ہم پکنک کے لئے آئی تھیں۔اب واپس جارہی ہیں۔کھانے کی چیزوں میں سے یہ ڈبہ بچ گیا ہے۔اب کہاں اٹھا کر واپس ساتھ لے جائیں۔آپ کے ساتھ چھوٹا بچہ ہے۔اس لئے رکھ لیں شاید آپ کو ضرورت پڑ ہے۔وہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔$1990 الفضل صفحه 2 - ۱۷ دوسری اسلام