قندیلیں

by Other Authors

Page 180 of 194

قندیلیں — Page 180

١٨٠ گیا تو ایک شخص نے جو چار پائی پر لیا تھا اپنے منہ پر سے چادر ہٹائی اور سلام کیا۔آپ کہاں سردار صاحب۔آپ تو میرے استاد کے بیٹے ہیں۔کہیں کیسے آنا ہوا۔یہ صاحب میاں عبدالحق ایڈووکیٹ ایبٹ آباد حضرت بانی سلسلہ کے رفیق تھے۔میرا مقصد سن کر اٹھے اور یہ کہہ کر اندر گئے کہ عبد الحی آپ کا کام ضرور کرے گا۔اب عبدالمی ٹھیک ہے۔کل آپ دفتر میں ان سے مل لیں۔یہاں مجھے علم ہوا کہ میرے کام کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ایک احمدی کو انڈر سیکرٹری لگایا ہوا تھا اور جونہی میرا نوٹیفیکیشن ہوا اس سیٹ سے کہیں اور چلے گئے۔کرنل صاحب نے فائل منگوا کر اپنے سامنے درستگی کر کے مجھے دکھائی اور پرنٹنگ پریس کو بھیج کر مجھے رخصت کیا۔ایک صبح اس کے بعد میرے محکمہ کا سب سے بڑا افسر خود چل کر حافظ آباد مبارکباد دینے آیا۔د روزنامه الفضل ۲۶ ستمبر ۱۹۹۵ء صفحه ۴) برف کی خواہش پر اولے ایک دفعہ حج کے موقعہ پر گرمی کی شدت کی وجہ سے ایک بزرگ نے خواہش کی کہ اگر برف ہوتی توئیں ستو پتا۔چنانچہ انہوں نے دعا کی کہ الہی یہ تیرا گھر ہے اور تیرا وعدہ ہے کہ میں یہاں کے رہنے والوں کو ہر قسم کا رزق عطا کرونگا۔سو تو اپنے فضل سے میرے لئے برف مہیا کر۔خدا تعالیٰ نے اولے برسا دئیے جو لوگوں نے جمع کرلئے اور انہوں نے برف ڈال کر ستو پیے ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه ۱۷۵)