قندیلیں — Page 182
JAY دوست کو آواز دو ! کہا جاتا ہے کہ ایک بزرگ تھے جن کے پاس ان کا شاگرد کافی عرصہ رہا۔اور تعلیم حاصل کرتا رہا۔جب وہ تعلیم سے فارغ ہو کر گھر جانے لگا تو اس بزرگ نے اس سے دریافت کیا کہ میاں تم اپنے گھر جا رہے ہو۔کیا تمہارے ملک میں شیطان بھی ہوتا ہے۔وہ یہ سوال سن کر حیران رہ گیا۔اس نے کہا شیطان بھلا کہاں نہیں ہوتا۔آپ نے فرمایا۔اچھا اگر وہاں شیطان ہے تو پھر جو کچھ تم نے میرے پاس رہ کر علم حاصل کیا ہے۔جب اس پر عمل کرنے لگو گے تو لازماً شیطان تمہارے راستے میں روک بن کے حائل ہوگا۔ایسی حالت میں تم کیا کرو گے۔وہ کہنے لگا۔میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔وہ بزرگ کہنے لگے۔بہت اچھا تم نے شیطان کا مقابلہ کیا۔اور وہ تمہارے دفاع کی تاب نہ لاکر بھاگ گیا لیکن پھر جب تم عمل کی طرف متوجہ ہونے لگے اور خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے راستوں پر تم نے چلنا شروع کیا اور پھر شیطان مجھے آگیا۔اور اس نے تمہیں پکڑ لیا۔پھر تم کیا کرو گے۔وہ کہنے لگا میں پھیر • شیطان کا مقابلہ کروں گا۔اور اللہ کے قرب کے حصول کیلئے جدو جہد میں مشغول ہو جاؤں گا۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔میں نے مان لیا کہ تمہارے مقابلہ کے نتیجے میں شیطان اس دفعہ بھی بھاگ گیا اور تم جیت گئے لیکن جب پھر اپنی اصلاح کی طرف توجہ کی اور اللہ کی طرف رُخ کیا تو پھر شیطان آگیا اور اس نے پکڑ لیا تو پھر کیا کرو گے شاگرد حیران رہ گیا اور کہنے لگا۔آپ ہی فرمائیں ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیئے وہ فرمانے لگے۔اچھا یہ بتاؤ اگر تم اپنے کسی دوست سے ملنے جاؤ جس نے اپنے مکان کی حفاظت کے لئے ایک بڑا کتا رکھا ہوا ہو اور جب