قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 52
قدرت ثانیہ کا دور اوّل اس کے بعد اسی مقصد کے لئے مزید دلائل قاطع بیان فرمائے ہیں۔آخر کتاب میں توحید فی التثلیث فی التوحید کے متعلق ایک صوفیانہ نکتہ بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ جب اپنے پاک اشخاص انبیاء علیہم السلام کو دنیا کی ہدایت کے واسطے معبوث فرماتا ہے تو جو کچھ وہ فرماتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہوتا ہے۔ان کا اور ان کے کلام کا اتباع عین اللہ تعالیٰ کی اتباع ہوا کرتا ہے۔ان کا اور ان کے کلام کا ماننا عین اللہ تعالیٰ کا مانا ہو جاتا ہے۔گویا وہ اور اللہ تعالیٰ اور کلام الہی تین ہیں مگر ایک ہیں۔اور جب کبھی ان کے اتباع سے کوئی سعادت مند بقدر طاقت اللہ تعالیٰ کی جناب میں پوری عبودیت کے ساتھ استقامت اور اخلاص سے نزول روح القدس کی لیاقت پیدا کرتا ہے۔تو الوہیت کاملہ اس بندہ کی عبودیت پر روح القدس کا فیضان فرماتی ہے اللهُم اجْعَلْنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ الصَّادِقِينَ (ابطال الوہیت مسیح صفحہ 42) 5- دینیات کا پہلا رسالہ حضرت خلیفہ اول نے بچوں اور عورتوں کے لئے دینیات کا پہلا رسالہ کے نام سے ایک مختصر تالیف کی۔جس میں دین حق کی ابتدائی باتیں سادہ طریق سے درج ہیں مثلاً نماز طریق وضو، اذان، نماز کے اوقات نماز پڑھنے کا طریق ، وضو کے فرائض ، وضو کے سنن، نواقض وضو، فرائض نماز ، ارکان نماز ، واجبات نماز ہسن نماز مکروہات نماز ، ایمان داری اور دینداری کی باتیں کے عنوان سے اسلام کے سادہ اور ابتدائی احکام درج ہیں اور آخر میں قرآن مجید کی نو (۹) سورتیں ہیں جن کو بچے بآسانی حفظ کر کے نمازوں اور دوسرے اوقات میں تلاوت کر سکتے ہیں۔ان کے بعد سورۃ بقرہ کی چند ابتدائی آیات ہیں۔جن سے یہ بتانا مقصود ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کو بھی ختم نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ یہ ختم نہ ہونے والے دور کی طرح ہمیشہ با قاعدگی اور تسلسل سے جاری رہنا چاہیئے۔(52)