قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 51 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 51

کیا ہے۔قدرت ثانیہ کا دور اول کتاب کے شروع میں آریوں کی طرف سے اثبات تناسخ میں پیش ہونے والی مندرجہ ذیل دلیل پیش کی گئی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ کئی آدمی جنم کے اندھے ہنگڑے لولے، کانے بہرے ہوتے ہیں اور کئی راجہ ،ٹھا کر ، دولتمند امیر جو یہ کہو کہ پر میشر کی مرضی ہے تو کیا پر میشر منصف عادل نہیں جو بلا قصور ایک دوسرے میں فرق کرتا ہے۔پس بجز نتیجہ سابقہ جنم کے اور کیا کہہ سکتے ہیں۔کیونکہ خدا ایسی طرفداری اور نامنصفی نہیں کر سکتا۔“ اس دلیل کو درج کرنے کے بعد آپ نے اللھم احدنی بروح القدس کی دعا سے شروع کرتے ہوئے اس کے پینتیس (35) مدلل مسکت جواب دیے ہیں۔جس میں مندرجہ بالا دلیل کا تجزیہ کرتے ہوئے ثابت کیا گیا ہے کہ یہ دلیل نہیں بلکہ محض مفروضہ ہے کیونکہ صانع عالم اپنی صنعت سے حکیم علیم معلوم ہوتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر ہمیں ایک صفت اور امر کی حکمت سرسری نظر سے سمجھ میں نہ آئے تو ہم اس کے لئے خود بخود وجوہات تر اشنا شروع کر دیں۔ایک معتبر روایت کے مطابق حضور نے اس موضوع پر ایک ضخیم کتاب تیار کی تھی۔ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب نے بڑی عقیدت سے اس کا مسودہ حاصل کر کے اس کے بیشتر مضامین اپنی کتاب میں بغیر کسی حوالے یا ذ کر کے درج کر دئے ) -4- ابطال الوہیت مسیح حضرت خلیفہ اول کی یہ مختصر تالیف حضرت مسیح موعود کے صحیح مقام کو متعین کرنے میں مدد دیتی ہے اور افراط و تفریط کے درمیان قرآن ، بائییل عقل اور نقل کی رو سے مسیح کو خدا کا سچا نبی قرار دیتی ہے نہ عیسائی عقیدہ کے مطابق ابن اللہ بقول یہود جھوٹا انسان ( نعوذ باللہ من ذالک)۔خدا تعالیٰ کی صفات کا ملہ مثلاً علم کامل ، معبود ہونا ، خالق ہونا اور غیر مرئی ہونا پیش کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ مسیح علیہ السلام اللہ یا ابن اللہ نہیں تھے (51)