قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 53
ندرت ثانیہ کا دور اول 6۔جواب شیعہ اور رد نسخ حضرت خلیفہ اول کے یہ دو خط مطبع انوار احمدیہ سے 1901ء میں کتابی صورت میں شائع ہوئے پہلا خط آپ نے اپنے کسی عزیز نجم الدین صاحب کو مسئلہ نسخ و منسوخ کے متعلق لکھا۔جس میں اختصار سے اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔یہ مضمون دس فقروں پر مشتمل ہے۔فقرہ اول میں حضرت خلیفہ اول نے نسخ کی لغوی تحقیق بیان فرمائی ہے۔اور بتایا ہے کہ قرآن مجید میں نسخ کن کن معنوں میں استعمال ہوا ہے فقرہ پنجم میں آپ نے امام سیوطی کی بیان کردہ اکیس منسوخ آیات کاحل بیان فرمایا ہے۔اور ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔فقرہ ہم میں آپ نے بیان فرمایا ہے کہ نسخ کا شبہ کس طرح پیدا ہوا چنا نچہ آپ فرماتے ہیں: میں نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ جن کا یہ ڈھنگ ہے کہ جب دو بظاہر متعارض حکموں کو دیکھا اور تطبیق نہ آئی۔لا اعلم کہنے میں شرم کھا کر نسخ کا دعویٰ کر دیا۔یا جب کوئی نص اپنے فتویٰ کے خلاف سنی اول تو لگے اس میں تو جیہات جمانے جب یہ کوشش کارگر نہ ہوئی تو جھٹ دعوی کر دیا کہ ان میں سے فلاں حکم اجماع کے خلاف ہے۔جب اجماع کی غلطی معلوم ہوئی تو اجماع کو مقید کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ اجماع اکثر کے اعتبار سے ہے۔جب اس کو بھی کسی نے خلاف ثابت کیا تو نسخ کا دعویٰ کر دیا۔حالانکہ بظاہر متعارض حکموں میں ایک کو عزیمت پر محمول کر لینے اور ایک کو رخصت پر یا ان کے اختلاف کو اختلاف انواع سمجھنے پر محمول کرنے اور اباحت اصلیہ کو عارض حرمت پر ترجیح کا موجب جان لینے اور شریعت کو اسباب اور موانع کا ماننے سے قریباً کل تعارض دفع ہو سکتے ہیں “ (صفحہ 13) دوسرا خط (راجہ کشمیر کے ایک درباری ( شیعہ دوست کے نام ہے جس کو آپ نے (ع۔وح) سے ظاہر کیا ہے۔اس مختصر خط میں آپ نے معصومیت آئمہ لفظ اہل بیت کی تحقیق (از روئے قرآن مجید ) بیان فرمائی ہے۔اور آیت شریفہ (53)