قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 30 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 30

قدرت ثانیہ کا دور اول قدرت ثانیہ کا ظہور اور بیعت خلافت اولی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی وفات کے قریب ہونے کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے بار باراشارات ملے تو آپ نے رسالہ ”الوصیت تحریر فرمایا اور جماعت کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: سواے عزیز و! قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے۔تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔سواب ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جا ئیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے۔اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے۔کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا۔جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔سوضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائی وعدہ کا دن ہے۔۔۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔۔۔66 الوصیت روحانی خزائن جلد 20 ص 305,306) مندرجہ بالا ارشاد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد دائمی سلسلہ خلافت کی بشارت ملتی ہے۔اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ عظیم الشان انعام حضرت مسیح موعود کی وفات کے معا بعد خدا تعالیٰ کے پاک بندوں کو حاصل ہو گا جیسا کہ آپ کے الفاظ وہ دوسری قدرت آنہیں سکتی جب تک میں نہ (30)