قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 31 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 31

قدرت ثانیہ کا دور اوّل جاؤں اور میں جب جاؤں گا ظاہر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے حادثہ جانکاہ کے بعد ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے خلافت کا انعام نازل ہوگا نیز غمگین مت ہو“ کے الفاظ بھی یہی بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی وفات ایک اندوہناک واقعہ ضرور ہوگا۔اور اس کا رنج طبعی اور لازمی امر ہے۔اگر اس حادثہ کے وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی انعام نازل نہیں ہوگا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کے جانثار خدام آپ کی وفات جیسے صدمہ پر غمگین نہ ہوں پس ” سوغمگین مت ہو کے الفاظ اس بات کا واضح اور غیر مہم ثبوت ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد ہی قدیم سنت اور طریق کے مطابق سلسلہ خلافت کی برکات نازل ہوں اور وہ دل جو اپنے محبوب اور پیارے امام کی جدائی کے صدمہ سے دو چار ہوئے ہیں ” قدرت ثانی کو پالینے سے تسکین پائیں اور دائی وعدہ سے متمتع ہوں۔دشمن جو جماعت کے درہم برہم ہونے کے منتظر تھے اُن کی حسرت بھری نظروں نے دیکھا کہ خدا کی تائید و نصرت کے جلوے برابر جاری ہیں اور جماعت ترقی کی کہکشاں پر رواں دواں ہے۔قدیم سنت کے مطابق جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یوشع علیہ السلام۔اور سردار دو جہاں فخر موجودات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت صدیق اعظم خلیفہ ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد مثیل ابوبکر حضرت حاجی الحرمین الشریفین حافظ حکیم مولانا نور الدین ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) مسند خلافت پر متمکن ہوئے جس کی مختصر روئداد درج ذیل ہے: حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور کے مقام پر مورخہ 26 مئی 1908ء کو قریباً ساڑھے دس بجے صبح اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔آپ کی وفات کے موقع پر اپنوں اور بیگانوں کی متضاد حالت کا بیان ایک لمبا مضمون ہے۔جس سے اپنوں کا حضرت مسیح موعود سے محبت و عشق اور غیروں کا کینہ اور بغض ظاہر ہوتا ہے۔تین بجے بعد دو پہر خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر حضرت مولانا نورالدین صاحب نے لاہور اور مضافات کی جماعتوں کے ساتھ نماز جنازہ ادا (31)