قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 29 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 29

قدرت ثانیہ کا دور اول 1 - سفر ملتان۔24 جولائی 1910ء کو آپ ایک شہادت کے سلسلہ میں ملتان تشریف لے گئے۔اس سفر میں آپ قادیان سے سات دن باہر رہے۔اور 31 جولائی 1910ء کو بغیر کسی اطلاع کے قادیان تشریف لے آئے۔کیونکہ آپ کو نمود و نمائش سے سخت نفرت تھی۔2- سفر لاہور۔حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لا ہور سے وعدہ فرمایا تھا کہ ان کی کوٹھی کا سنگ بنیاد آپ اپنے دست مبارک سے رکھیں گے۔لیکن اس تقریب سے قبل آپ فوت ہو گئے۔لہذا حضرت خلیفہ اول اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے 15 جون 1912 ء کو لاہور تشریف لے گئے۔اس سفر میں آپ کی اہلیہ محترمہ ، صاحبزادہ میاں عبدالحی صاحب ، حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کے علاوہ چند اور بزرگ بھی شامل تھے۔16 جون کو بعد نماز فجر حضرت خلیفہ اول نے حضرت مرزا محمود احمد کو ایک جلسہ میں تقریر کرنے کا ارشاد فرمایا اور خود اس تقریر کے دوران عورتوں کو دعوت الی اللہ کرتے رہے۔لاہور میں آپ نے خود بھی 16 اور 17 جون کو دو پبلک لیکچر دئے۔اس سفر میں آپ نے احمد یہ بلڈنگس میں وہ عظیم الشان تقریر کی جو مسئلہ خلافت کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے آپ نے فرمایا: ”جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے یہ رفض کا شبہ ہے جو خلافت کی بحث تم چھیڑتے ہو یہ خدا سے شکوہ کرنا چاہیے کہ بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہو گیا۔کوئی کہتا ہے کتابوں کا عشق ہے اس میں مبتلا رہتا ہے ہزار نالائقیاں مجھ پر تھو پو مجھ پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا یہ لوگ ایسے ہی ہیں جیسے رافضی ہیں۔( بدر جولائی 1912ء) 17 جون کو تین بجے آپ امرتسر کے لئے روانہ ہوئے اور وہاں ایک تقریر کی جس میں والعصر کی پر مغز تفسیر بیان فرمائی 18 جون کو آپ بٹالہ میں رہے اور 19 جون 1912ء کو واپس دارالامان قادیان پہنچ گئے۔(29)