قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 28 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 28

قدرت ثانیہ کا دور اول انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں دس روپیہ ماہواری دوں گا۔“ (الحکم 19 اکتوبر 1897ء) جب قادیان میں ڈگری کالج کا اجراء ہوا تو آپ اس میں عربی کے لیکچرار مقرر ہوئے۔صدر انجمن کے اجراء پر آپ صدر انجمن کے پریزیڈنٹ مقرر کئے گئے اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کی رائے چالیس افراد کے برابر سمجھی جائے۔گویا انجمن صرف سلسلہ کے کاموں کو عمدگی سے چلانے کا ایک ذریعہ ہے۔کیونکہ انجمن کے باقی دس ووٹوں کے مقابلہ میں حضرت مولوی صاحب کی پوزیشن چالیس ووٹوں کی تھی اس لئے کبھی بھی کوئی فیصلہ آپ کی مرضی کے خلاف نہ ہوسکتا تھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کے بعد پانچوں نمازوں کی امامت اور جمعہ کا خطبہ بھی آپ ہی دیا کرتے تھے۔افتاء کا کام بھی آپ کے سپر د تھا۔یعنی مسائل کے متعلق خطوط کے اکثر جواب آپ لکھتے تھے گویا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قرآن مجید کے معلم ، شفاخانہ کے انچارج ، عربی کے لیکچرار، امین، مفتی ، صدر انجمن کے پریذیڈنٹ ،سکول کی انتظامیہ کے صدر، بیسیوں ناداروں کے مربی اور سر پرست تھے۔الغرض حضرت مسیح موعود کے تمام کاموں میں مددگار و معاون اور پوری طرح ہاتھ بٹانے والے تھے۔حضرت مسیح موعود چونکہ کتابوں کی تصنیف میں ہمہ وقت مشغول و مصروف رہتے تھے۔حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نگرانی میں جماعت کی تعلیم و تربیت کے لئے پوری ٹریننگ حاصل کر لی۔آپ کی یہی دینی اور قومی خدمات اور علم وتجربہ حضرت مسیح موعود کی جانشینی میں جماعت کی تربیت میں کام آیا۔آپ کے بعض سفر آپ حضرت مسیح موعود کے اکثر سفروں میں حضور کے ارشاد کے مطابق ساتھ تشریف لے جایا کرتے تھے لیکن آپ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں صرف مندرجہ ذیل دوسفر کئے۔اور واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سفر نہایت مجبوری کی حالت میں کئے :۔(28)