قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 118
تدرت ثانیہ کا دور اوّل حضرت خلیفہ اول بھی جن کے رگ رگ میں قرآن مجید کی محبت سمائی ہوئی تھی جب تلاوت کرتے تو عجب سماں بندھ جاتا اور سننے والے ایک خاص کیفیت محسوس کرتے چنانچہ آپ کی تلاوت کے موٹر ووجد آفریں ہونے کا مندرجہ ذیل ایمان افروز واقعہ قابل ذکر ہے۔وو۔۔۔ایک دفعہ میں نے ان سے کہا آؤ ہم تمہیں قرآن سنائیں وہ سب ہندو تھے ایک شخص جس کا نام رتی رام تھا اور وہ خزانہ کا افسر تھا اور افسر خزانہ کا بیٹا بھی تھا اس نے عام مجلس میں کہا ” دیکھو ان کو قرآن شریف سنانے سے روکو ورنہ میں مسلمان ہو جاؤں گا قرآن شریف بڑی دل ربا کتاب ہے اور اس کا مقابلہ ہرگز نہیں ہوسکتا اور نورالدین کے سنانے کا انداز بھی بہت ہی دلفریب اور دلر با ہے۔“ ( حیات نورالدین صفحہ 135) مندرجہ بالا واقعات سے حضرت خلیفہ اول ابوبکر اور مولانا نورالدین کی تلاوت عبادات میں خشوع و خضوع اور انقطاع الی اللہ میں کمال یکسانیت اور مطابقت نظر آتی ہے۔10 - حضرت ابوبکر اپنی دینی خدمات۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کمال عقیدت و محبت انفاق جان و مال اور دیگر قربانیوں کی وجہ سے قوم میں نمایاں اور امتیازی شان رکھتے تھے اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر الصدیق خیر الناس الا ان يكون نبی“ یعنی ابوبکر بہترین انسان ہیں سوائے اس کے کوئی نبی آجائے۔(طبرانی بحوالہ تاریخ الخلفاء) نیز فرمایا: ان روح القدس جبرئیل اخبرنی ان خیر امتك بعدك ابو بكر الله منه یعنی روح القدس جبریل نے مجھ بتایا کہ تمہارے بعد امت کا بہترین فرد ابو بکر ہے۔( الا وسط بحوالہ تاریخ الخلفاء) یہی وجہ ہے کہ امت محمدیہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر مسند خلافت کے لئے آپ کو موزوں ترین سمجھا۔علامہ جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔(118)