قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 117 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 117

قدرت ثانیہ کا دور اوّل 8- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں شاہان عجم کو تبلیغ اسلام کے لئے خطوط لکھ کر تم ریزی تو کر دی تھی لیکن اسلام کی باقاعدہ تبلیغ حضرت ابوبکر" کے عہد میں سرزمین عرب سے باہر ممالک روم و فارس میں شروع ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی خطوط واشتہارات کے ذریعہ ممالک غیر میں پیغام احمدیت تو پہنچا لیکن با قاعدہ مشن حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں شروع ہوا اور عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح حضرت ابوبکر کے زمانہ میں عیسائی ملک کی طرف دعوت اسلام پہنچی حضرت خلیفہ اول نے بھی سب سے پہلے ایک عیسائی ملک یعنی برطانیہ کی طرف توجہ کی اور ابتد 71 ستمبر 1912 کو خواجہ کمال الدین صاحب لندن گئے اور 28 جون 1913ء کو مکرم چوہدری فتح محمد صاحب سیال با قاعدہ مبلغ کے طور پر لندن تشریف لے گئے اور اس طرح اشاعت قرآن و احمدیت کا عظیم کام بیرون ہند حضرت خلیفہ اول کے عہد سعادت مہد میں شروع ہوا۔9۔حضرت ابوبکر خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور محبوب بندوں کی طرح عبادات نہایت خشوع و خضوع سے ادا فرماتے تھے خصوصاً آپ کی مؤثر و کیف آور تلاوت قرآن مجید تو بہت مشہور ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں حضرت عائشہ سے فرمایا کہ "مروا ابابکر فليصل بالناس“ (ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ) تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا حضور وہ کثرت گریہ ورقت کی وجہ سے نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔رئیس مکہ ابن الدغنہ نے جب آپ کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے سے روکا اور گھر میں ہی عبادت وغیرہ کرنے کو کہا تو آپ نے گھر ہی میں ایک جگہ کو عبادت کے لئے مخصوص کر لیا چنانچہ روایت ہے کہ ترجمہ:۔حضرت ابو بکر اپنے صحن میں ہی نماز ادا کرنے اور تلاوت کرنے لگے۔آپ بہت رقیق القلب اور خشیت اللہ سے رونے والے تھے۔مشرکین کی عورتیں اور بچے اس سے متاثر ہوتے تھے اس پر قریش نے ابن الدغنہ سے شکایت کی۔حضرت ابوبکر نے خدا کی تائید پر توکل کرتے ہوئے ابن الدغنہ کی حفاظت واپس کر دی۔( تاریخ الاسلام صفحہ 35) (117)