قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 119 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 119

قدرت ثانیہ کا دور اوّل ترجمہ:۔مسلمانوں نے اس امر پر اجماع کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ( تاریخ الخلفاء صفحہ 34) ابوبکر بہترین وافضل ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقاء میں سے سب سے افضل و بہتر حضرت خلیفہ اول کو سمجھا جاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ قوم نے بالا تفاق آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جانشینی جیسے منصب جلیلہ کے لئے منتخب کر کے اس بات پر اجماع کیا کہ اس وقت جماعت بھر میں سب سے افضل و بہترین شخص اپنی دینی خدمات ، انفاق جان و مال فی سبیل اللہ کی وجہ سے حضرت مولانا نور الدین اعظم ہیں۔نیز بیعت کے لئے جو درخواست خلیفہ اول کے سامنے پیش کی گئی اس میں بھی اس بات کی صراحت کی گئی ہے مطابق فرمان حضرت مسیح موعود مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المھاجرین حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب جو ہم سب میں سے اعلم اور اتھی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام اسوہ حسنہ قرار دے چکے ہیں۔۔۔۔۔۔( بدر 2 جون 1908ء) 11 - حضرت ابو بکر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے تمام جاری کردہ کاموں کو بدستور جاری رکھا چنانچہ جیش اسامہ کو مخالف حالات کے باوجود سرحدات شام کی طرف بھجوادیا اور فرمایا کہ وہ کام جس کا آغاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔میں اسے کسی صورت میں بھی بند نہیں کر سکتا اس کے علاوہ آپ نے عام اعلان کروا دیا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کوئی وعدہ کیا ہو اور اس کو کسی وجہ سے ایفاء نہ کر سکے ہوں تو میں وہ وعدہ ایفاء کروں گا چنانچہ روایت ہے کہ : ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر سے فرمایا کہ اگر بحرین سے مال آیا تو میں تمہیں اتنا مال دوں گا۔یہ مال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نہ پہنچا۔حضور (119)