قسمت کے ثمار — Page 83
تمدن اسلام حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے اپنے مولد ومسکن فلسطین میں لوگوں کو اپنے خدا داد منصب مشن کی طرف دعوت دی تو آپ کو سنت انبیاء کے مطابق سخت مشکلات و مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تا ہم آپ پورے زور و ہمت کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کیلئے کوشاں رہے۔عیسائیت کی تاریخ بتلاتی ہے کہ آپ پر ابتدائی ایمان لانے والے غریب ماہی گیر تھے۔حضرت مسیح ما السلام نے ایک اچھے معلم کی طرح ان کی تربیت فرمائی اور قرآنی محاورہ کے مطابق ان غریب اور سیدھے سادے لوگوں کو آسانی روحانیت کے بلند پرواز پرندے بنا دیا۔مخالفت کا سلسلہ اس حد تک بڑھ گیا کہ آپ کے دشمنوں نے آپ کو مختلف تکلیفیں دیتے ہوئے بالآخر صلیب پر چڑھا دیا۔خدائے قدیر کی تائید و نصرت سے حضرت مسیح عالین صلیبی موت سے تو بچ گئے تاہم مشکلات کے ہجوم اور مصالح کو مدنظر السلام رکھتے ہوئے آپ کو وہاں سے ایک لمبا سفر اختیار کر کے ایک پر فضا مقام کشمیر کی طرف جانا پڑا اور آپ نے وہاں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تلاش کرنے کا فریضہ ادا فرماتے ہوئے توحید کی تبلیغ کا کام جاری رکھا۔فلسطین میں حواریوں نے اپنا کام جاری رکھا مگر وہ سرزمین ان کیلئے زیادہ زرخیز ثابت نہ ہوئی اور وہ اپنے استاد و مربی کے پیغام کو عام نہ کر سکے۔ان میں سے بعض کو حضرت مسیح کی طرح ہی مشکلات پیش آئیں اور انہیں اپنی جان تک کا نذرانہ تک پیش کرنا پڑا۔کم و بیش تین سو سال اسی 83