قسمت کے ثمار — Page 84
طرح گزر گئے۔کبھی حالات ان کی موافق ہو جاتے مگر اکثر و بیشتر انہیں زیرزمین جا کر ہی اپنی تنگ ودوکو جاری رکھنا پڑا۔تین سوسالوں کے طویل، پر مشقت سفر کے بعد جب روم کے بادشاہ نے عیسائیت قبول کی تو ابتدائی مسیحیوں کی مشکلات کا دور ختم ہوا اور عیسائیت پھیلنے لگی۔مگر یہاں ایک عجیب بات سامنے آتی ہے کہ جس مقصد کیلئے تین سو سال تک قربانیوں اور تکالیف برداشت کرنے کی شاندار تاریخ مرتب کی گئی تھی وہ مقصد دھندلانے لگا اور تو اور حضرت مسیح ملالی) کی مظلومی اور جگہ جگہ پوشیدہ طور پر جانے اور رہنے کے ردعمل کے طور پر حضرت مسیح معلم کو خدا اور خدا کے بیٹے کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔اس طرح اہل روم کے مذہبی عقائد اور تمدن نے عیسائی عقائد و تمدن کی جگہ لے لی اور اب جو مذہب پھیلنے لگا اس کا اصل عیسائیت سے صرف نام کا تعلق باقی رہ گیا۔یہی وجہ ہے کہ پرانے مسیحیوں کو نئے مسیحیوں سے مقابلہ کرنا پڑا مگر نئے مسیحیوں کی کثرت اور ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے صحیح عقائد اور تمدن اوجھل ہوتے چلے گئے اور ان کی جگہ رومن عقائد و تمدن کو جگہ مل گئی اور یہی عقائد و تمدن مسیحی عقائد و تمدن سمجھے جانے لگے۔اس تبدیلی کی وجہ سے حضرت مسیح علی کا مشن جو رسُولاً إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ کا مشن تھا، اسے عالمگیر مشن کے طور پر پیش کیا جانے لگا، توحید کی بجائے تثلیث کا چرچا ہونے لگا۔حضرت مسیح حالی کے آسمان پر جانے کا ذکر بھی درمیان میں آ گیا۔ختنہ، جسے بنی اسرائیل میں خدائی عہد کا نشان سمجھا جاتا تھا غیر ضروری قرار دے دیا گیا۔حلال وحرام کی تعلیم کو مسخ کر دیا گیا اور بہت حد تک مشرکانہ خیالات اور رسم ورواج عیسائیت اور حضرت مسیح عالی شام کی تعلیم سمجھے جانے لگے۔تمدن کی تبدیلی سے خیالات بلکہ عقائد کی تبدیلی کی یہ بہت ہی واضح اور افسوسناک مثال ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں رسل رسائل یا ابلاغ عامہ کے وسائل بہت محدود تھے۔مگر ہمارے زمانہ میں کمپیوٹر کی ایجاد نے مختلف قوموں اور ممالک کے رابطوں میں ایک انقلاب پیدا 84