قسمت کے ثمار — Page 82
گئے کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے اور چپکے سے ہندوستان واپس چلے گئے۔جبکہ اس کے مقابل پر حضرت شیخ صاحب نے احمدی واقفین کی روایتی قربانی پیش کرتے ہوئے وہاں جماعتیں قائم کیں، مساجد تعمیر کیں، قرآن کریم کا سواحیلی میں ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی۔وہاں آپ پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔جھوٹی مخبریاں بھی کی گئیں اور قدم قدم پر مشکلات پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں مگر ایک واقف زندگی کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔حضرت شیخ صاحب مشرقی افریقہ میں کم و بیش ربع صدی نہایت مفید و مؤثر خدمات بجالانے کے بعد واپس مرکز گئے اور وہاں اہم جماعتی خدمات سرانجام دیں۔آپ کو یورپ اور امریکہ میں بھی خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔یورپ اور امریکہ کی کئی مساجد اور مشن ہاؤس آپ کی یادگار ہیں۔قرآن کریم کے سواحیلی ترجمہ کی قابل رشک خدمت بجا لانے کے علاوہ آپ کو زندگی کے آخری ایام میں حدیث کے ایک نہایت عمدہ مجموعہ "ریاض الصالحین کے سواحیلی ترجمہ کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی جسے آپ نے اپنے خرچ پر طبع کروا کر مشرقی افریقہ کی جماعت کو بطور عطیہ دے کر ایک بیش بہا صدقہ جاریہ کا ثواب حاصل کیا۔یہ ایک مثال ہے۔ایسے واقفین زندگی دنیا بھر میں خدمات بجالا رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اب اس فتح نصیب قافلہ میں واقفین وقف نو اور واقفین وقف جدید کی کمک نئے جذبوں اور ولولوں کے ساتھ شامل ہو رہی ہے۔خدا جو سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار کچھ ہی کرتے ہیں اس پر ثار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب که راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب 82 الفضل انٹرنیشنل 11 جون (2004)