قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 81 of 365

قسمت کے ثمار — Page 81

اسی میں ہو جائے۔آپ کی بےنفسی اور ایثار وقربانی کی یہ روح آپ کے ساتھیوں اور متبعین میں بھی سرایت کر گئی۔حضرت مولانا نور الدین بنایا جو علم الادیان اور علم الابدان کے مسلمہ ماہر اور ہندوستان بھر میں بلکہ بیرون ملک بھی بہت اچھی شہرت کے مالک تھے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قادیان میں خدمت دین کیلئے دھونی رما کر بیٹھ گئے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نئی پختہ سیالکوٹی جو کئی زبانوں کے ماہر تھے اعلیٰ مشاہرے اور ملازمت کے یقینی مواقع کو نظر انداز کرتے ہوئے دیار مسیح کیلئے وقف ہو کر رہ گئے۔حضرت مولوی برہان الدین صاحب معنی شیمی ، حضرت مولوی محمد احسن صاحب رضی اللہ ، حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب بینی ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب بنی ہو ، اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نانی مند وغیرہ کے نام اس سلسلہ میں بہت نمایاں ہیں۔مگر ایسے گمنام مخلصین کی تعداد اور قربانی بھی کسی طرح کم نہیں ہے جو اصحاب الصفہ کی طرح اپنے گھر بار چھوڑ کر قادیان کے ہی ہو گئے۔واقفین زندگی کا یہ گروہ جماعت کی تاریخ کا قابل رشک حصہ ہے۔اسی سے واقفین زندگی کی با برکت تحریک شروع ہوئی اور حضرت مصلح موعود نیا خون کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے جماعت کے لوگوں نے یہ جاننے یا پوچھنے کے بغیر کہ انکا کام کتنا مشکل ہوگا اور اس کا کوئی معاوضہ بھی ملے گا یا نہیں اپنے آپ کو وقف کر دیا اور تبلیغی میدانوں میں کار ہائے نمایاں سرانجام دئے۔ان میں بعض خوش نصیب ممالک غیر میں دینی خدمات بجالاتے ہوئے شہادت کے مقام پر فائز ہوئے۔نیروبی کینیا میں ایک احراری مولوی صاحب نے سچائی کی مخالفت میں ایک طوفان برپا کر دیا۔نیروبی جماعت کی طرف سے قادیان اطلاع پہنچی تو واقفین زندگی میں سے ایک نو جوان حضرت شیخ مبارک احمد صاحب کو وہاں بھجوا دیا گیا۔وہ مولوی صاحب تو اس خیال سے وہاں گئے تھے کہ جماعت کی مخالفت کی وجہ سے نیروبی کے خوشحال مسلمانوں میں ایک پیر کی طرح زندگی بسر کریں گے۔مگر جب ایک واقف زندگی کی قربانی، بے نفسی ، اخلاص ، تو کل اور جد وجہد سے واسطہ پڑا تو وہ جلد ہی یہ سمجھ 81