قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 31 of 365

قسمت کے ثمار — Page 31

بالکل کوئی دخل نہیں تھا۔قادیان کے زمانہ کی صرف ایک بات اور تحریر کرتا ہوں۔ابا جان کو اپنے کاروبار کے سلسلہ میں اکثر بٹالہ، امرتسر جانا پڑتا تھا تحر یک جدید کے اجراء سے پہلے کا زمانہ تھا جب کبھی موقع ملتا سینما بھی چلے جاتے اور اس طرح واپسی میں دیر ہوتی مگر کوئی حل نظر نہیں آتا تھا۔ایک جمعہ کے دن یہ پروگرام بنا کہ جمعہ سے واپسی کے بعد امرتسر جانا ہے اور وہاں سے شوق سینما بینی پورا کر کے واپسی ہو گی۔اماں جی نے کہا کہ خدا کرے حضور آج کے خطبہ میں سینما جانے پر پابندی لگا دیں۔خدا کی قدرت حضور کے خطبہ کا موضوع سادہ زندگی تھا اور سینما بینی کی ناپسندیدگی کا اظہار تھا۔اماں جی تو خوش خوش واپس آئیں اور ابا جان کی نظر میں اماں جی کا مقام اور زیادہ بڑھ گیا اور اس کے بعد اس لغویت سے مکمل اجتناب اختیار کیا۔اماں جی کی زندگی کا دوسرا دور پاکستان کے قیام کے بعد شروع ہوا۔تقسیم ملک کے وقت تو غالب خیال اُمید اور خواہش یہی تھی کہ جماعتی مسلک و کوشش کے مطابق قادیان پاکستان میں شامل ہو۔ابتدائی اعلان تو یہی ہوا مگر بعد میں سازش کے گھناؤنے کاروبار کے نتیجے میں قادیان ہندوستان میں شامل ہو گیا اور ہمیں بادل نخواستہ قادیان چھوڑنا پڑا۔ابا جان کو اللہ تعالیٰ نے درویشی کی سعادت سے نوازا۔ہم سات بہن بھائی اماں جی کے ساتھ اس حال میں پاکستان آئے کہ نہ تو ہمارا نھیال ادھر تھا اور نہ ہی ددھیال۔ظاہری طور پر کوئی ذریعہ اور سہارا نہیں تھا۔یہ ایک لمبی اور پُر درد داستان ہے جسے ایک طرف چھوڑتے ہوئے صرف یہی کہنے پر اکتفا کروں گا کہ امی جان کی عمر اس وقت صرف 35 سال تھی۔سات بچے ہمراہ تھے ، آٹھواں بچہ ہمارا چھوٹا بھائی عبدالسلام طاہر پاکستان آنے کے بعد پیدا ہوا۔یہ صورتحال اماں جی کے لئے اتنا بڑا چیلنج تھا کہ اسے بیان نہیں کیا جاسکتا ، کوئی صاحب دل ہی اس کا احساس کر سکتا ہے۔ان حالات میں جب بڑے بھائی جان عبدالمجید نیاز نے پڑھائی چھوڑ کر کوئی کام کرنے کی خواہش ظاہر کی تو اماں جی نے بلا تامل اس تجویز کو سختی سے 31