قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 30 of 365

قسمت کے ثمار — Page 30

سعادت حاصل ہوئی۔وہاں ایک پرانی طرز کے معمر ہندو دوست تھے، علمی طبیعت رکھنے اور غیر متعصب ہونے کی وجہ سے ہمارے ساتھ ان کے بہت اچھے مراسم تھے ایک دفعہ وہ خاکسار سے پوچھنے لگے کہ آپ کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے دادا جان ایک دکاندار تھے۔آپ کے والد صاحب نے اس کا روبار کو مزید وسعت دی اس صورت میں جبکہ آپ کا خاندان دنیا کمانا جانتا اور دنیاوی کشش سے بخوبی واقف تھا آپ اس طریق کو چھوڑ کر خدمت دین کی طرف کس طرح آگئے؟ خاکسار نے انہیں اس سعادت کے حصول کو فضل الہی کا نتیجہ بتایا اور بھی بتا یا کی ظاہری طور پر تو اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ میرے بچپن کی سب سے پرانی یا بلکہ پہلی یاد یہ ہے کہ اماں جی مجھے بہلاتے ، کھلاتے ہوئے کہا کرتی تھیں کہ میرا بچہ دین کی خدمت کرے گا۔لوگوں کو راہ حق کی طرف بلائیگا۔اس طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے خدمت دین کا جذ بہ مجھے میری ماں نے اپنے دودھ کے ساتھ پلایا تھا جو میرے رگ وپے میں جاری ہے۔اماں جی کی زندگی کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔قادیان کی رہائش کے زمانہ میں خدا تعالی کے فضل سے ہر طرح فراخی تھی۔ہر ضرورت اور جذبے کا پوری طرح خیال رکھنے والا شوہر موجود تھا۔ایسی فراخی کے زمانہ میں دینی احکام کی کماحقہ تعمیل کرتیں۔پردہ اور حیا اگر ایک احمدی عورت کا زیور اور خوبصورتی ہے۔تو آپ میں یہ بدرجہ کمال موجود تھا۔حقوق العباد کی ادائیگی میں کمال احتیاط و التزام ہوتا۔قادیان سلسلہ احمدیہ کا مرکز تو تھا ہی اماں جی کے حسن سلوک کی وجہ سے ہمارے سب رشتہ داروں کا مرکز ہمارا گھر بنارہتا تھا غریب رشتہ داروں کی مدد کر کے خوش ہوتیں۔ابا جان کی طبیعت کو اس طرح سمجھتی تھیں کہ بسا اوقات بات کے لئے بات کہنے یا اشارہ کرنے کی بھی نوبت نہ آتی اور ایک دوسرے کے منشاء کے مطابق عمل ہو جاتا۔خدا تعالی کے فضل سے ہم نے ایسے ماحول میں پرورش پائی جس میں میاں بیوی کی باہم ناراضگی، ناخوشی اور جھوٹ وغیرہ کا 30