قسمت کے ثمار — Page 32
رڈ کر دیا۔توکل اور عزم کی یہ عجیب مثال ہے، بغیر کسی معین و معقول آمدنی کے آپ نے ہر حال میں پڑھائی جاری رکھنے کوضروری سمجھا ، جماعت کی طرف سے کچھ عرصہ پندرہ روپے ماہوار کی مددضرور ملی مگر وہ بھی جاری نہ رہ سکی تاہم پ نیتینوں لڑکوں کو ہی نہیں پانچوں لڑکیوں کو بھی پڑھائی کی طرف راغب رکھا۔اس جذبہ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت ملی۔ہم سب بھائی بہنوں کو تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ اپنے اپنے رنگ میں سلسلہ کی خدمت کی توفیق بھی ملی۔-1 اماں جی کی قبولیت دعا کے بے شمار واقعات ہیں، بطور مثال عرض ہے کہ ایک دفعہ ہماری ایک بہن نے امتحان کے بعد بتایا کہ میرا ایک پرچہ توقع کے مطابق نہیں ہوا اور اس کے متعلق فکر ہو رہا ہے اماں جی جو معمولاً ہر بچے کے لئے دعا کرتی تھیں زیادہ توجہ سے دعا کرنے لگیں خواب میں انہیں نمبر بتائے گئے مگر انگریزی ہندسوں میں لکھے ہونے کی وجہ سے وہ سمجھ نہ سکیں اور اپنی سجدہ گاہ کے قریب زمین پر انگلی سے ایک ہندسہ کا نشان بنالیا صبح اٹھ کر بتایا کہ شروع کا ہندسہ 3 اس طرح کا تھا، میری بہن کے لئے تو یہ بڑی خوشخبری تھی کہ تین سو سے زائد نمبر حاصل ہوں گے اور خدا تعالی کے فضل سے نتیجہ نکلنے پر پتہ چلا کہ ان کہ نمبر تین سو سے زائد ہی ہیں۔جماعت کی طرف سے ملنے والی مدد 15 روپے ایک چھوٹی بہن دفتر سے لے کر آرہی تھیں، پیسے دوپٹے کے کونے میں باندھے ہوئے تھے، گھر پہنچ کر رقم اماں جی کو دینے لگیں تو چاروں کو نے خالی تھے معلوم ہوا کہ بے احتیاطی سے دی گئی گرہ رستہ میں کھل گئی اور رقم ضائع ہو گئی۔ظاہر ہے کہ ان حالات میں پندرہ روپے کی قیمت پندرہ سو یا پندرہ ہزار کے برابر تھی۔اماں جی کو اس کی ضرور تکلیف ہوئی ہوگی۔دعا بھی ضرور کی ہوگی۔خدا کی قدرت گھر میں رکھے ہوئے چوزوں میں سے ایک وبائی مرض کا شکار ہو کر مر گیا۔وہی بہن اسے دبانے کے لئے باہر لے کر گئیں۔ایک جگہ ریت کا -2 32