قسمت کے ثمار — Page 281
دہشت گردی یا صلح و محبت وطن عزیز میں لاقانونیت اور دہشت گردی اور ہیں درندے ہر طرف“ کا جو شیطانی رقص جاری ہے اس سے ہر پڑھے لکھے باشعور شخص کا ذہنی سکون غارت ہوکر رہ گیا ہے۔خوف اور سہم کی یہ کیفیت ہر شخص کے لئے ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے کہ عافیت کا حصار کدھر ہے اور بدامنی، قانون شکنی اور بے چینی کب اور کیسے ختم ہوگی۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی یا انہوں نے ایک عرصہ قبل اس خطرہ کو بھانپ کر بڑی وضاحت سے اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائی تھی۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہمارے ملک پر غیر ملکی حکمران تھے اور بعض عاقبت نا اندیش رہنما لا قانونیت کے سہارے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اس کے برعکس حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی بیانہ کی تمام زندگی قانون کا احترام کرنے کرانے میں گزری اور حصول آزادی میں بھی آپ نے قابل صدر شک کردار ادا فرمایا۔اطاعت وفرماں برداری کے فوائد اور سرکشی اور نافرمانی کے نقصانات بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ملک میں قیام امن خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔پس اگر انگریز خود امن نہ بھی قائم کریں جب بھی ہمیں چاہئے کہ اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر بھی اسے قائم کریں اور یہ انگریز کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کیلئے اور اپنی اولادوں کو بداخلاقی سے بچانے کیلئے ہے۔اگر کسی وجہ سے ہم اس فرض سے دستکش ہو جا ئیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ 281