قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 282 of 365

قسمت کے ثمار — Page 282

نادانی کی وجہ سے ہم اپنی اولادوں کو بگاڑتے ہیں اور اس میں انگریز کا نہیں بلکہ ہمارا اپنا نقصان ہے۔۔۔ہمارا یہ فعل خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے اس کے دین کے قیام کے لئے اسی طرح اپنے ملک اور اپنی اولاد کے اصلاح کیلئے ہونا چاہئے۔ایسی شرارتیں بعض اوقات خود حکومتیں بھی کروادیا کرتی ہیں، تارعایا پر زیادہ تشدد اور ظلم کا موقع مل سکے اور میں کہوں گا اگر خود حکومت کی طرف سے بھی ایسی حرکات ہو رہی ہوں تب بھی ہمیں اس کا مقابلہ کرنا چاہئے کیونکہ ہم انگریز کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا، اسلام، ملک اور اپنی اولادوں کی بہتری کیلئے ایسی تحریکات کے مخالف ہیں۔اسی طرح ملک کے اندر قانونی شکنی کی جو روح پیدا ہو رہی ہے اسے بھی روکنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آج جن بچوں کو کہا جاتا ہے کہ جاؤ انگریزی قوانین تو ڑ دو۔وہ کل ضرور باپ سے کہیں گے کہ جاؤ میں تمہاری بات نہیں مانتا اور اسی طرح شاگرد استادوں کی نافرمانی کریں گے۔گویا یہ تحریک ہماری اہلی زندگی کو تباہ اور اولاد کی تربیت کا ستیا ناس کرنے والی ہے۔اگر ان بچوں کو انگریزی قانون توڑنے کا عادی بنایا جائے گا تو یقیناً کل شاگر داستاد کو، بیٹی ماں کو اور لڑ کا باپ کو جواب دے گا۔دراصل حقوق حاصل کرنے کیلئے صبر، تقویٰ، نیکی ، ہمت اور صداقت سے کام لینا چاہئے جو قوم سچائی کے ساتھ اپنا حق لینا چاہے، اسے کوئی محروم نہیں رکھ سکتا۔صداقت خواہ ایک آدمی لے کر کھڑا ہو جھوٹ کو اس کے سامنے ضرور ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔بڑی سے بڑی حکومت بھی اس کے سامنے دب جاتی ہے۔جائز حقوق حاصل کرنے کیلئے ناجائز ذرائع اختیار کرنا کسی صورت بھی مناسب نہیں۔جو قوم جائز ذرائع سے جدوجہد کرتی ہے اور صداقت کے ساتھ اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے۔ساری دنیا کی حکومتیں مل کر بھی اسے محروم نہیں رکھ سکتیں۔جو حکومت رعایا کے بیدار جذبات کا لحاظ نہیں کرتی وہ خود بخود تباہ ہو جائے گی۔(الفضل 14 فروری 1932 ء) 282