قسمت کے ثمار — Page 280
- موجودہ دور میں جبکہ چند در چند مصالح اور خدا کی حکمتوں کے مطابق ہمارے پیارے امام ربوہ سے جسمانی طور پر بہت دور رہتے مگر دلی طور پر ربوہ میں ہی رہتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب امام کے احکام کی تعمیل میں دن رات کوشاں رہتے۔قرآن مجید کے ترجمہ و تشریح کا کام زندگی کے آخری لمحات تک جاری رکھا۔بخاری شریف کے ترجمہ و تشریح کے کام کی سعادت بھی مل رہی تھی جب کبھی آپ کی رہائش گاہ مہبط الانوار جانے کا موقع ملتا آپ کے بیٹھنے والے کمرے میں چاروں طرف کتابیں اور مسودات پڑے ہوتے تھے۔جتنی دیر میں کتابوں کو ادھر ادھر کر کے بیٹھنے کی جگہ بنائی جاتی۔آپ چائے یا شربت مع لوازمات لئے ہوئے بڑی پیاری مسکراہٹ چہرے پر سجائے سامنے ہوتے اور بہت پیار اور اصرار سے کچھ نہ کچھ ضرور کھلاتے اہلیہ ام عارضہ قلب سے بیمار ہوگئیں۔حضرت مولوی صاحب ہمیشہ ان کے متعلق دریافت فرماتے۔ہومیو پیتھک ادویات تجویز فرماتے بلکہ اپنے پاس سے ادویہ دیتے اور دعا کرتے تھے۔جتنا عرصہ آپ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملتا آپ آپ خلفائے کرام نبیلہ کے پیار و شفقت اور خدا تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت کا ذکر ایک عجیب توکل واستغنا کے رنگ میں کرتے۔ہومیو پیتھی کا ذکر آیا ہے تو یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آپ نے اس طریق علاج میں دلچسپی اور بنی نوع انسان سے ہمدردی کی وجہ سے مفت علاج کیا اور اس خدمت سے کبھی کوئی مالی فائدہ حاصل نہ کیا۔اے خدا بر تربت اوا بر رحمت ہا بار۔(روزنامه الفضل ربوہ 20 جنوری 1996ء) 280